ایک تاریخ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۳
مطالعہ ـ مین اینڈ ہر گاڈس (انگریزی)
دی ہیملن پبلشنگ گروپ لمیٹڈ، لندن ۱۹۷۴ء، صفحات ۴۱۴ یہ مذہب پر ایک مختصر انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں مختلف مغربی علماء کے ۴۲ مقالات درج ہیں۔ ماقبل تاریخ سے لے کر اب تک کے تمام مذاہب کی معلومات نہایت سلیقہ کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔ کثیر تعداد میں قیمتی تاریخی تصاویر اور حسن ترتیب نے کتاب کو ایک خوبصورت البم بنا دیا ہے۔ قدیم زمانہ میں مذہب پر جو کتابیں لکھی جاتی تھیں، وہ یا تو کسی مذہب کی موافقت میں ہوتی تھیں، یا اس کی مخالفت میں۔ مذاہب کا غیر جانب دارانہ تاریخی تعارف قدیم زمانہ میں ایک لامعلوم چیز تھی، موجودہ زمانہ میں جو چیزیں پیدا ہوئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مذاہب اور دوسرے موضوعات پر اس انداز سے کتاب لکھی جاتی ہے گویا کہ لکھنے والا اپنے موضوع پر کوئی موافق یا مخالف رائے نہیں رکھتا، وہ صرف ایک قلمی کیمرہ کا فرض انجام دے رہا ہے جس کی ساری دلچسپی اصل صورت حال کی تصویر کشی سے ہے نہ کہ اس کے بارے میں اپنی کوئی رائے دینے سے۔
زیر نظر کتاب بھی اسی انداز پر لکھی گئی ہے۔ چنانچہ اس کے مرتب نے کتاب کا خاتمہ حسب ذیل سطروں پر کیا ہے: " اس انسائیکلوپیڈیا نے حقائق پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کام حکم لگانا یا کوئی معیار قائم کرنا نہیں، اس نے صرف سچائی کو پیش کر دیا ہے (صفحہ ۴۳۱)
قدیم طرز کی متکلمانہ کتابیں " "پروپیگنڈا لٹریچر" " سمجھی جاتی ہیں۔ مگر اس طرز تصنیف نے آج کے متکلمین کو موقع دیا ہے کہ وہ بظاہر لوگوں کو علوم کی تدوین کرتے ہوئے نظر آئیں ، حالانکہ حقیقہ" وہ اپنا کلامی لٹریچر تیار کر رہے ہوں اور پھر یہی کتابیں تعلیم گاہوں میں عمومی نصاب کے طور پر داخل ہوں۔ لائبریریوں کے ریفرنس سیکشن میں سجائی ہوئی ہوں۔ علمی تحقیق کے لئے ان کا مطالعہ کیا جائے ۔
اس طرز تصنیف کے رواج سے یہودیوں اور عیسائیوں نے کافی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ انداز ترتیب کے لحاظ سے مکمل طور پر غیر جانب دار رہ کر مذہب اور تاریخ کے موضوعات پر کتابیں لکھتے ہیں۔ ان کو آدمی اس طرح پڑھتا ہے گویا کہ وہ ایک موضوع کا علمی مطالعہ کر رہا ہے نہ کہ اس کے بارے میں کسی موافق یا مخالف کا تبصرہ پڑھ رہا ہے۔ اور پھر نہایت ہوشیاری سے وہ اس کے بین السطور میں اپنا نقطہ نظر شامل کر دیتے ہیں ۔
اس انسائیکلو پیڈیا میں جس کے ایک مقالہ نگار ہندو اور باقی سب یا یہودی یا عیسائی ہیں، اسلام کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ بظاہر اس میں اسلام کی دعوتی، تہذیبی اور سیاسی کامیابیوں کا فیاضانہ اعتراف موجود ہے ۔ حتیٰ کہ اس میں یہ جملہ بھی ہے : ITS ADVENT CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY (P.389)
اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا ۔ اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں بھی اسلام نے پرامن ذرائع سے نئی کامیابیاں (NEW GAINS) حاصل کی ہیں۔ افریقہ میں تیزی سے نو مسلموں کا اضافہ کسی تبلیغی کوشش سے زیادہ اسلام کی اپنی کشش کی بنیاد پر ہو رہا ہے (۳۰۴) تاہم اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جن کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لکھنے والے نے یہ سطریں کیوں نہ لکھیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues