ایک تاریخ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۴
مثال کے طور پر صفحہ ۳۹۵ پر درج ہے:
"محمد کو اپنی زندگی میں عرب سے باہر کسی علاقہ کا قبضہ حاصل نہیں ہوا۔ کسی طرح یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سمجھتے ہوں کہ عربوں کے علاوہ بھی اسلام میں کسی کے لئے کوئی معنویت ہے، اگرچہ بعد کا مسلم نظروہ ان کے عالمی مقاصد کی توثیق کرتا ہے، تاہم اپنی زندگی کے آخری زمانہ میں انھوں نے عرب کی بعض سرحدی عیسائی ریاستوں کے خلاف مہم بھیجی جو جزیرہ نما کے شمال میں واقع تھیں۔ ان مہموں نے مسلمانوں کو عظیم بازنطینی اور ساسانی سلطنتوں سے ٹکرا دیا اور پیغمبر کی وفات کے جلد ہی بعد تیز رفتار اور دائمی فتح کا سبب بن گئیں۔"
اس پیراگراف نے اسلام کو اُس سطح پر کھڑا کر دیا جہاں موجودہ مسیحیت ہے، بائبل کے مطابق حضرت مسیح اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجے گئے (متی ۱۵:۲۴)۔ مگر بعد کو سینٹ پال اور دوسرے سنت اور آپ کے اصحاب کے چھوڑے ہوئے نمونہ کا نام ہے۔ اس لئے اسلام کے مطالعہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیمات، رسول کی ثابت شدہ سنت اور صحابہ کرام کی زندگیوں کو سامنے رکھ کر اسلام کو سمجھا جائے ۔ اسلام صرف اسی چیز کا نام ہو جو ان معیاری ذرائع سے معلوم ہو، اس کے سوا کسی چیز کا نام اسلام نہ ہو۔ بعد کے دور میں اسلام کی جو تاریخ بنی، اس کو مذکورہ بالا معیار پر جانچا جائے اور اتنے ہی حصہ کو اسلام قرار دیا جائے جو اس معیار پر پورا اترے۔ باقی کو " انحراف ‘‘ قرار دے کر اسلام کی حقیقی تاریخ سے الگ کر دیا جائے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصنفین اس کے بجائے یہ کرتے ہیں کہ اسلام کے نام پر مسلمانوں میں جو کچھ بھی پایا جاتا ہے ، اس کو اکٹھا کرتے ہیں اور اس پورے مجموعہ کو اسلام قرار دے دیتے ہیں ۔ اس طرح توحید سے لے کر بزرگ پرستی تک ہر چیز کا نام اسلام ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر کبھی کسی " مسلمان ‘‘ نے گرد و پیش کی مسیحی راہبوں نے کشف و رویا کا سہارا لے کر مسیحیت کو عالمی بنا دیا۔ مگر پیغمبر اسلام کی بابت یہ بیان بالکل خلاف واقعہ ہے۔ قرآن میں صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا ہے کہ آپ تمام دنیا کے لئے ڈرانے والے (فرقان۔ ۱) ۔ 1) بنا کر بھیجے گئے۔ آپ نے خود فرمایا کہ ارسلت الی الناس کافة میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں) آپ نے اپنی زندگی ہی میں عرب کے باہر دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے ۔ اور صریح طور پر پیش گوئی فرمائی کہ اسلام عنقریب ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ وغیرہ اسی طرح اس کتاب میں یہ غلطی بھی کی گئی ہے جو موجودہ زمانہ کے رواجی مطالعہ کی بنا پر اکثر مذہبی مصنفین کرتے ہیں۔ اسلام کسی تاریخ کا نام نہیں، وہ قرآن، رسول کی فضا سے متاثر ہو کر ایک تصویر بنائی جس میں دکھایا کہ فرشتہ ایک پر دار خاتون کی شکل میں آیا ہے اور پیغمبر اسلام کو خدا کی وحی پہنچارہا ہے۔ اس تصویر کو نہایت اہتمام سے ایڈنبرا یونیورسٹی کی لائبریری میں محفوظ کر دیا گیا اور کتاب میں اس کا فوٹو (صفحہ ۳۹۱) چھاپ دیا گیا۔ اسی طرح چودھویں صدی عیسوی میں کسی مسلمان یا عیسائی نے دو صاحب ریش بزرگوں کی تصویر بنائی اور ان کے سر پر پگڑی رکھی۔ ایک کو اونٹ پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا، دوسرے کو گدھے پر۔ گدھے کے مسافر کے نیچے لکھ دیا "عیسیٰ"، اونٹ کے مسافر کے لئے لکھ دیا : "محمد"، یہ تصویر بھی اسلامی تاریخ کے ایک قیمتی صفحہ کی حیثیت سے کتاب (۴۳۱) کی زینت بن گئی۔ مسلمانوں میں ایک گروہ پیدا ہوا جس نے دوسری قوموں کے اثر سے "وجد" کا نظریہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues