Al-Risala · December 1977 · page 25

ایک تاریخ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۵

نکالا۔ ایسے لوگوں کی ایک مجلس کا فوٹو لے لیا گیا (۴۱۱) اور دکھایا گیا کہ اسلام کے مطابق جب خدائی راگ چھیڑا جاتا ہے تو لوگوں کو وجد آ جاتا ہے اور وہ کھڑے ہو کر ناچنے لگتے ہیں۔ اسی طرح مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بعض معاملات بیں قرآن کے بیانات متضاد (CONTRADICTORY)

ہیں۔ مثال کے طور پر کبھی قرآن کہتا ہے کہ انسان کو عمل کی آزادی حاصل ہے، اور کبھی قرآن ہی یہ زور دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ انسان کے تمام معاملات پر خدا کا مکمل کنٹرول قائم ہے (۴۰۷) قرآن کی بابت مقالہ نگار نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے کسی ما قبل انسانی ماخذ کا ثبوت نہیں ملتا (۴۰۲) حتی کہ قرآن کی زبان بھی محمد کی اپنی روز مرہ کی زبان سے مختلف ہے (۳۹۸) پھر بھی معروف رواج کے مطابق انھیں تلاش ہے کہ سابق مذہبی کتابوں میں اس کا کوئی ماخذ جائے۔ وغیرہ یہ باتیں بلاشبہ ہمارے لئے تکلیف دہ ہیں۔

مگر اس قسم کی جو کتابیں چھپ رہی ہیں، ان کا توڑ نہیں ہے کہ ان کے خلاف ایک جلی کٹی تنقید لکھ کر چھاپ دی جائے یا ناشراور مصنف کے نام احتجاجی تار روانہ کر دیئے جائیں۔ اس قسم کی کوشش، خدمت اسلام کا جھوٹا کریڈٹ لینے کے ہم معنی ہے ۔ ان کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ کچھ خبریں اخبار میں چھپ جائیں اور وہ بھی دینی نقصان میں مالی نقصان کے اضافہ کی قیمت پر۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ان کتابوں کا علمی بدل فراہم کیا جائے ، ہمارے درمیان اعلیٰ سطح پر ایسے ادارے قائم ہوں جو خود علوم کو نئے ڈھنگ پر مرتب کر ڈالیں۔ موجودہ قسم کی اشتہاری کتابوں کے بجائے وہ علمی طرز کی کتا میں تیار کریں ، اسلام کی قلمی خدمت کے کام کو مناظرہ بازی یا دوسرے لفظوں میں "مذہب کے پروپیگنڈہ لٹریچر" کی سطح سے اٹھا کر تدوین علوم کی سطح پر پہنچادیں ۔ وہ انسانی ذہن کو تحقیق وتصنیف کے اس مقام پر پہنچ کر خطاب کریں جہاں سے دوسرے لوگ اس کو خطاب کررہے ہیں ۔ دوسری کوئی بھی صورت اس فتنہ کے مقابلہ کی نہیں ہے۔

تعارف وتبصرہ:

صیانۃ الحدیث حصہ اول (صفحات ۳۲۸)

" " حصہ دوم (صفحات ۲۰۰)

ازمولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈانگری قیمت ہر دو حصے نوروپے پچاس پیسے پتہ: مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری معرفت خان کلاتھ ہاؤس، رام دت گنج ضلع بستی العلم والعلماء از مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈانگری صفحات ۱۰۴ - قیمت دو روپے (پتہ مذکورہ بالا) دونوں کتابوں کا موضوع ان کے نام سے ظاہر ہے۔ منکرین حدیث کا اعتراض ہے کہ احادیث رسول ڈھائی سو برس بعد مرتب کی گئیں۔ اس لئے وہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ صیانۃ الحدیث میں اس الزام کا مفصل جواب تاریخ و واقعات کی روشنی میں دیا گیا ہے۔ دوسری کتاب (العلم والعلماء) میں طلب علم کے سلسلے میں علمائے سلف کی جدوجہد کے عبرت انگیز واقعات درج ہیں۔ موصوف نے دیباچہ میں لکھا ہے : "حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا ہے کہ اپنی تصانیف میں سے صرف فتح الباری اور مقدمہ فتح الباری کے تیار کرنے پر سب سے زیادہ خوش ہوں۔ میں بھی اپنے تازہ مضامین میں "سیرت پاک" پر لکھے ہوئے مقالہ اور نصرت حدیث پر لکھے ہوئے مضمون "صیانۃ الحدیث اور نصرۃ الباری فی بیان صحۃ البخاری" سے سب سے زیادہ مطمئن ہوں"

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page