مومن کی تصویر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۷
ہوں اور سب سے زیادہ اس سے محبت کرتے ہوں جس شخص کی یہ کیفیت ہو جائے وہی دراصل اسلام کو قبول کرتاہے۔ اسلام تسلیم وتفویض کی وہ آخری قسم ہے جس میں بندہ اپنے فکر کو، اپنے جذبات کو، اپنے وجود کو اور اپنے سارے اثاثے کو خدا کے سپر د کر دیتا ہے اور اپنے پاس کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ذکر ہے وہاں اسی لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انھوں نے سمجھا کہ خدا مجھ سے میرے لڑکے کی قربانی مانگ رہا ہے۔ چنانچہ انھوں نے فوراً لڑکے کو لیا اور اس کو لٹا کر اس کی گردن پر چھری رکھ دی۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان لفظوں میں آیا ہے:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ جب وہ دونوں مسلم ہوئے اور ابراہیم نے اسمعیل کو پیشانی کے بل ڈال دیا۔
حضرت ابراہیم کا یہ عمل اسلام کی حقیقی تصویر ہے۔ یہ حوالگی اور سپردگی کی انتہا ہے کہ خدا کی طرف سے جو حکم بھی آئے بندہ فوراً اس کی تعمیل کے لیے تیار ہو جائے حتیٰ کہ اگر اس کو محسوس ہو کہ اس سے اپنے لڑکے کو ذبح کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے تو وہ بے تکلف اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹائے اور اس کی گردن پر چھری چلادے۔
یہی اسلام خدا پرستانہ زندگی کا آغاز ہے۔ جب آدمی اس طرح مسلم اور مطیع ہو جائے تو وہ دین کا سرا پکڑتا ہے۔ اس مکمل حوالگی کے بغیر کسی کی زندگی حقیقی معنوں میں خدا پرستانہ زندگی نہیں بن سکتی۔ اس حوالگی میں جتنی کمی ہوگی اسی کے بقدر آدمی کی زندگی میں کمی رہ جائے گی. مثلاً ایک شخص نے اگر اپنے ذہن کو خدا کے حوالے کیا ہے مگر اس کے احساسات پر خدا کا غلبہ نہیں ہوا ہے تو وہ اسلام کا صرف ایک وکیل بن کر رہ جائے گا۔ وہ اسلام کے لیے بحثیں کرے گا اور دوسردں پر تنقید کرنے میں اس کی زبان بہت تیز ہوگی۔ مگر اس کی اپنی زندگی خدا پرستی سے خالی ہوگی۔ کوئی شخص اگر اسلام کی طرف اس طرح آئے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کا نفع حاصل کرنا چاہتا ہو تو وہ خدا پرستی کو اسی حد تک اختیار کرے گا جس حد تک اس کے دنیوی مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔ جہاں اس کا دنیا کا فائدہ خطرہ میں نظر آیا وہ خدا پرستی کو ترک کر دے گا اور دنیا کے بت کو پوجنے لگے گا۔ جو شخص کسی سطحی تاثر یا وقتی جذبات کے تحت اسلام کی طرف مائل ہوگا وہ چند دنوں تو بڑی سرگرمی دکھائے گا مگر اس کے بعد ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ یا جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جائے گا۔ جو شخص اسلام کی طرف اس طرح آئے کہ وہ اپنی خودی کے بت کو بھی ساتھ لیے ہو وہ خدا کے دین کی ان چیزوں کو بڑی خوشی سے لے لے گا جو اس کے ذوق کے مطابق ہوں گی اور جو چیز اس کے ذہنی سانچے میں فٹ ہوگی وہ اسے رو کر دے گا۔ جو شخص اسلام کے ناقص مطالعہ کے تحت محض اس کے بعض پہلوؤں سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف آئے وہ اپنے پسندیدہ پہلوؤں کے بارے میں تو اتنی گرم گرم تقریر کرے گا گویا وہ صحابہ کرام سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ مگر دوسرے پہلوؤں سے اسے کچھ زیادہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues