مومن کی تصویر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۸
دل چسپی نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسلام کو اپنے قومی اور تحریکی جذبات کی تسکین کے لیے اختیار کرے تو وہ قومی جوش وخروش اور تحریکی اخلاقیات میں تو بہت نمایاں نظر آئے گا۔ مگر حقیقی اسلامی اسپرٹ اور اسلامی اخلاقیات کا اس کے اندر کہیں پتہ نہ ہوگا۔ حتی کہ جو لوگ مکمل حوالگی کے بغیر دین کی طرف آئیں ان کی کمزوریاں اس حد تک پہنچ سکتی ہیں کہ ایک شخص کو صبح سات بجے کسی دینی کام کے لیے بلایا جائے گا اور وہ کہے گا میں تنہ سویرے نہیں آسکتا کیونکہ وہ میرے چائے پینے کا وقت ہے۔ ایک شخص کو کسی اسلامی اجتماع کے پروگرام میں حصہ لینے کے لیے رات کو گیارہ بجے کا وقت دیا جائے گا اور وہ جواب دے گا کہ گیارہ بجے تک میرے لیے سو جانا ضروری ہے۔ اس لیے میں اس پروگرام میں شریک نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو صلاحیت دی ہے اس کو دین کی خدمت میں لگاؤ مگر وہ کہے گا کہ میں تو دنیا کی خدمت کروں گا کیونکہ دنیا کے بازار میں میری صلاحیتوں کی زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ ایک شخص اسلام کا دعویٰ کرنے کے باوجود ہر وقت کھانے کپڑے کی فکر میں مبتلا رہے گا، اس کی مجلس میں ہر وقت روپے پیسے کا تذکرہ ہوگا اور جب اس سے کہا جائے گا کہ مومن کے گھر میں خدا اور آخرت کا چر چاہونا چاہیے تو وہ بگڑ کر بولے گا کہ ہاں یہ مومن کا نہیں کافر کا گھر ہے۔ ‘‘ ایسا شخص اپنے آپ کو اسلام کے علمبردار کی حیثیت سے پیش کرے گا لیکن اگر اس کی زندگی کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اسلام سے زیادہ اس کا ذہن اپنے ذاتی مسائل میں دلچسپی لیتا ہے، وہ اپنی اسلامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے زیادہ سنج قسم کے مشغولوں میں اپنا وقت صرف کر رہا ہے، وہ اپنی معاش کمانے اور اپنے بیوی بچوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے تو سارے جتن کرتا ہے مگر اسلام کا کوئی کام کرنا ہو تو معمولی معمولی باتوں کو عذر بنا لیتا ہے۔ اس قسم کی کمزوریاں جہاں نظر آئیں سمجھ لیجیے کہ اس کا ایک ہی سبب ہے، وہ یہ کہ آدمی کے اندر مکمل حوالگی کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کے دین کی طرف نہیں آیا ہے۔ اس نے ادھوری شکل میں اسلام قبول کیا ہے۔
یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بعض احادیث میں چند مخصوص چیزوں کو اسلام‘‘ کہا گیا ہے۔ مثلاً حدیث جبریل میں ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: اے محمد ! بتائیے اسلام کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا:’’ اسلام یہ ہے تم گواہی دو کہ الَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ کہ شہادت دو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بشرط استطاعت بیت اللہ کا حج کرو‘‘ اس طرح کی اور بھی روایتیں ہیں جن کو دیکھ کر بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہی وہ چند چیزیں ہیں جن کے مجموعے کا نام اسلام ہے مگر اس قسم کا شبہ وہی کر سکتا ہے جو ان احادیث کو پوری شریعت سے الگ کر کے دیکھے۔ قرآن وحدیث کی ساری تعلیمات کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ یہ چند چیزیں کل اسلام نہیں ہیں بلکہ یہ اسلام کے چند علامتی پہلو ہیں۔ کلمہ توحید کا اقرار اپنے اندر ایک فکری انقلاب کا اعتراف ہے۔ نماز اس بات کا اظہار ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کے آگے جھک گیا ہے۔ زکوٰۃ اپنے مال واسباب کو خدا کے لیے وقف کر دینے کا اعلان ہے روزہ اس بات کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues