Al-Risala · October 1977 · page 42

الاسلام پر دو تبصرے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۲

ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں ایک حدیث ہے :

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کے ستر سے زیادہ وسلم الایمان بضع وسبعون شعبۃ ، فافضلھا شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ کا کہنا قول لا الہ الا اللہ ، و ادناھا اماطۃ الاذی عن ہے اور سب سے کم راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا الطریق والحیاء شعبۃ من الایمان ہے، اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔

( رواہ الستۃ وغیرہم بالفاظ مختلفۃ)

اس حدیث میں "ستر" کا عدد محض زیادتی کے مفہوم کو بتانے کے لئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایتوں میں دوسرے اعداد بھی آئے ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں ۷۷ کا عدد بتایا گیا ہے۔ مگر لوگوں کو ہمیشہ یہ شوق رہتا ہے کہ حقیقتوں کو مقداری اصطلاحوں میں بیان کرسکیں، اس لئے بہت سی طبیعتیں اس تلاش میں لگ گئیں کہ وہ ستر شاخوں کی گنتی کریں، حتیٰ کہ ان ستر شاخوں کے تعین کے لئے علماء نے بہت سی مستقل کتابیں لکھ ڈالیں۔ مثلاً فوائد المنہاج از ابو عبد الله حلبی، شعب الایمان از بیهقی، شعب الایمان از عبد الجلیل، کتاب النصائح از اسحاق بن قرطبی، وصف الایمان از ابو حاتم وغیرہ۔

امام ابو حاتم بن حبان فرماتے ہیں کہ میں ایک مدت تک اس حدیث کا مطلب سوچتا رہا۔ جب عبادتوں کو گنتا تو وہ ستر سے بہت زیادہ ہوجاتیں۔ احادیث میں چھان بین کرتا اور حدیث میں جن چیزوں کو نام لے کر ایمان کی شاخوں کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے، ان کو گنتا تو وہ اس عدد سے کم ہوجاتیں۔ قرآن کی طرف متوجہ ہوا اور قرآن میں جن چیزوں کو ایمان کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے، ان کو شمار کیا تو وہ بھی ستر سے کم نکلا۔

اس کے بعد میں نے قرآن اور حدیث دونوں کو جمع کیا۔ دونوں میں جن چیزوں کو ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے، ان کو گنا۔ جو چیزیں دونوں میں مشترک تھیں ان کو ایک ایک عدد شمار کر کے میزان نکالی تو دونوں کا مجموعہ، مکررات کو الگ کرکے ، اُس عدد کے موافق ہوگیا۔

کچھ دوسرے لوگ جو ساری کوششوں کے باوجود اپنی فہرست ایمان کو ۶۷ یا ۷۷ کے موافق نہ بناسکے، انھوں نے کہہ دیا کہ اللہ ورسولہ اعلم۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان شاخوں کی تفصیل بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے اور اجتہاداً سے ان تفصیلات کے مراد ہونے کا حکم لگایا ہے، حالانکہ اس مقدار کی تعیین معلوم نہ ہونے سے ایمان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔ خطابی لکھتے ہیں کہ اس تعداد کی تفصیل اللہ اور اس کے رسول کے علم میں ہے اور شریعت مطہرہ میں موجود ہے ، اس لئے تعیین کے ساتھ ان کی تعداد کا معلوم نہ ہونا کچھ مضر نہیں۔ نووی لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شاخوں میں سب سے اعلیٰ توحید کو قرار دیا ہے اور سب سے نیچے جو ہے وہ دفع کرنا ہے اس چیز کا جو کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے کا احتمال رکھتی ہو۔ باقی سب شاخیں ان کے درمیان ہیں جن کی تفصیل معلوم ہونا ضرور ی نہیں۔ اجمالاً ان پر ایمان لانا کافی ہے، جیسا کہ سب فرشتوں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page