الاسلام پر دو تبصرے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳
پر ایمان لانا ضرور ی ہے مگر ان کی تفصیل اور ان کے نام ہم نہیں جانتے۔
حقیقت کو مقداری اصطلاحوں میں بیان کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں ہے، اس کے بعد پورے دین کا تصور ہی بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر احادیث میں بعض کلمات واذکار کی فضیلت آئی ہے۔ مثلاً ایک حدیث ہے : عن ابن عباس قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و الذي نفسی بیدہ لو جئئی بالسّموات والارض میں میری جان ہے، اگر تمام آسمان وزمین لائے جائیں اور ومن فیهن وما بینهن وما تحتھن فوُضِعَنّ فی کفة جو لوگ ان میں ہیں اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں یا ان المیزان ووضعتُ شہادۃ ان لا الہ الا اللہ فی کے نیچے ہیں، سب کا سب ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ الکفة الاخری لَرُجِحَتْ بھن دیا جائے اور لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یقیناً وہ جھک جائے گا۔
حقیقت کو مقداری اصطلاح میں بیان کرنے کا ذہن ، اس قسم کی احادیث کے سلسلے میں ، سب سے پہلے یہ کرتا ہے کہ ”گواہی دینے“ کو ”پڑھنے کے معنے میں لے لیتا ہے۔ حالانکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص محبت کی تعریف میں کہے : محبت نام ہے اپنی زبان سے یہ جملہ بولنے کا ۔ ’’ میں تم سے محبت کرتا ہوں ‘‘، اب اگر ایک باپ کو اپنے بیٹے سے محبت ہے تو اس کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ کسی گوشہ میں بیٹھ کر ایک لاکھ بار محبت محبت کا ورد کر لیا کرے ۔ اس کے بعد دوسری شدید تر غلطی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس ذہن کے سامنے وہ روایتیں آتی ہیں جن میں ذکر اور استغفار کے کلمات کی کثرت کی تلقین کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا: باقیات صالحات (مریم) کو کثرت سے کہا کرو۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں۔ فرمایا تکبیر، تہلیل، تسبیح، تحمید اور لا حول ولا قوة ۔ اسی طرح ایک روایت ہے : عن ابی بکر الصدیق عن رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا الہ الا اللہ اور استغفار علیکم بلا الہ الا اللہ والاستغفار فاکثروا منھا تمھارے لئے ضروری ہیں ، پس ان میں کثرت کرو۔ کہنے یا شہادت دینے کو ” پڑھنے “ کے معنی میں لینے کے بعد قدرتی طور پر یہ ہوتا ہے کہ ذکر کی کثرت ” ورد کی کثرت “ کے معنی میں ڈھل جاتی ہے۔ اب اس کا مطلب یہ ہو جاتا ہے کہ ذکر کے مسنون اور غیر مسنون کلمات کو یاد کر لیا جائے اور ان کو تسبیح کے دانوں پر شمار کیا جاتا ر ہے۔ ایسے ایسے مشائخ فن پیدا ہونے لگتے ہیں جن کے ذکر کی مقدار لاکھوں سے گزر کر کروڑوں کی گنتی تک پہنچ جاتی ہے ۔
جامع الاصول میں لکھا ہے کہ لفظ اللہ کا ذکر ورد کے طور پر کم از کم پانچ ہزار روزانہ کی مقدار ہے۔ اور زیادہ کے لئے کوئی حد نہیں۔ صوفیاء کے لئے کم از کم پچیس ہزار روزانہ کی مقدار ہے۔ لا الہ الا اللہ کی مقدار کے متعلق لکھا ہے کہ کم از کم پانچ ہزار روزانہ ہونا چاہئے۔ شاہ ولی اللہ نے قول جمیل میں اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ میں ابتدائے سلوک میں ایک سانس میں لا الہ الا اللہ دوسو مرتبہ کہا کرتا تھا۔ صوفیاء کے یہاں ایک اصطلاح وضع ہوئی جس کو پاس انفاس کہا جاتا ہے۔ یعنی اس بات کی مشق کہ کوئی سانس اللہ کے ذکر کے بغیر نہ اندر جائے نہ باہر آئے۔ کروڑوں لوگوں نے ریاضت کرکے باقاعدہ اس کی مشق حاصل کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues