Al-Risala · October 1977 · page 45

الاسلام پر دو تبصرے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵

ذکر کے معنی عربی زبان میں یاد کے ہیں۔ اللہ کا ذکر مراد یہ ہے کہ آدمی کا دل اللہ کے خوف اور اس کی محبت سے سے اس طرح بھر جائے کہ ہر وقت اس کی یاد آتی رہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کوئی شخص اپنے محبوب ترین دوست کے لئے بے قرار رہتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز میں اس کو خدا کا جلوہ دکھائی دے جس کی وجہ سے بار بار کلمات شکر اس کی زبان سے نکلتے رہیں۔ آخرت اس کو اتنی بڑی حقیقت دکھائی دینے لگے جو اس کی ساری زندگی کو بے چین کر دے اور بے تابانہ اس کی زبان سے استغفار کی دعائیں ٹپکنے لگیں۔

ذکر نہ ورد ہے نہ تکرار الفاظ۔ یہ انتہائی واقعہ ہے جو پوری انسانی زندگی کو متاثر کرکے رکھ دیتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ بندہ جب تکبیر (اللہ اکبر) کہتا ہے تو اس کا نور زمین سے آسمان تک سب چیزوں کو ڈھک لیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار خطبہ میں فرمایا، جو شخص لا الہ الا اللہ کو اس طرح کہے کہ خلط ملط نہ ہو تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ علی بن ابی طالب نے پوچھا کہ خلط ملط کا کیا مطلب ہے۔ فرمایا: دنیا کی محبت اور اس کی طلب میں لگ جانا۔ ایک بار آپ نے فرمایا کہ جو شخص لا الہ الا اللہ اخلاص کے ساتھ کہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پوچھا گیا لا الہ الا اللہ کا اخلاص کیا ہے۔ فرمایا: وہ آدمی کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے روک دے۔

عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللہ صلی اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ علیہ وسلم لا يموت عبد يشهد ان لا اله اس نے گوآہی دی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، اور میں اللہ الا اللہ واني رسول الله يرجع ذلك الى کا رسول ہوں۔ اور یہ بات اس کے قلب سے نکلی ہو، تو وہ ضرور قلب مومن الا دخل الجنة (وعن عمر ان جنت میں داخل ہوگا۔ (دوسری روایت میں) جو اس بات کو بلفظ) من علم ان الله ربه واني نبيه موقنا جان لے کہ اللہ اس کا رب ہے اور میں خدا کا رسول ہوں، من قلبه حرمه الله على النار اس نے قلب سے اس کا یقین کیا ہو تو جہنم کی آگ اللہ اس کے لئے حرام کر دیتا ہے۔

شیخ محمد مہدی (م ۱۸۱۵ء) مصر کے ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے تھے، پھر اسلام قبول کیا۔ جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کی۔ اور اس کے بعد شیخ الازہر کے منصب پر سرفراز کئے گئے۔

احمد فارس شتیاق (۱۸۸۷-۱۸۰۰) لبنان کے مارونی عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے ۔ تعلیم اور مطالعہ کے بعد ادبی حیثیت سے بہت نمایاں ہوئے۔ لندن کی تورات سوسائٹی نے ان کو تو رات کے ترجمہ کے لئے بلایا۔ اسی طرح کے اور بہت سے علمی اور ادبی مرتبے ان کو حاصل ہوئے ۔ آخر میں تونس پہنچ کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام احمد رکھا۔ عالم عرب میں اس طرح کے بہت سے عیسائی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی کسی تبلیغی کوشش کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ عرب کے مسلمان اگر سیاسیات میں نہ الجھتے اور تبلیغ و دعوت کا کام کرتے تو یقینی ہے کہ وہ زمین ہی ختم ہو جاتی جس پر فلسطین اور لبنان جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page