Al-Risala · October 1977 · page 44

الاسلام پر دو تبصرے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴

صوفوء ذکر کے نام پر درد کی خوب کثرت کراتے ہیں۔ عقیدہ یہ ہے کہ قلب میں اس کے بعد دسا دس کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔ یہاں یہ سوال تھا کہ اوراد اور ضربوں سے اگر قلب کی اصلاح ہوتی ہے تو صحابہؓ نے اپنی اصلاح کے لئے یہ طریقہ کیوں نہ اختیار کیا۔ اس کا سادہ جواب یہ دیا گیا کہ "صحابہ کرام کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے یہ قوت قلبیہ اعلیٰ درجہ پر حاصل تھی تو ان کو ضربیں لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے جتنا بعد ہوتا گیا اتنی ہی قلب کے لئے اس مقوی قلب خمیرہ کی ضرورت بڑھتی گئی۔ (۳۷)

ذکر کو درد کے ہم معنی سمجھنے کی وجہ سے بزرگی کی عجیب عجیب قسمیں وجود میں آنے لگیں۔ سری سقطی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جرجانی کو دیکھا کہ ستو پھانک رہے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ خشک ہی پھانک رہے ہو، کہنے ل کہ میں روٹی چبانے اور پھانکنے کا جب حساب لگایا تو چبانے میں اتنا وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے کہ اس میں آدمی ستر مرتبہ سبحان اللہ کہہ سکتا ہے۔ اس لئے میں نے چالیس برس سے روٹی کھانا چھوڑ دیا، ستو پھانک کر گزر کر لیتا ہوں۔ (۲۳)

اس ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ عمل اور اس کے نتائج دونوں شماریاتی چیز بن گئے۔ جب گناہوں کی بھی گنتی تھی اور ذکر و استغفار کے کلمات بھی گنتی کی چیز تھے تو یہ ممکن ہوگیا کہ ایک گنتی کو با آسانی دوسری گنتی سے ختم کر لیا جائے۔ ایک بزرگ لکھتے ہیں: "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو مسلمان ان کا اہتمام کرلے، جنت میں داخل ہو از دہ دونوں بہت معمولی چیزیں ہیں۔ مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ ایک یہ کہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ پڑھ لیا کرے تو روزانہ ایک سو پچاس مرتبہ (پانچوں نمازوں کے بعد کا مجموعہ) ہو جائے گا اور دس گنا ہوجانے کی وجہ سے پندرہ نیکیاں حساب میں شمار کی جائیں گی۔ اور دوسری چیز یہ کہ سوتے وقت اللہ اکبر ۳۴ مرتبہ ، الحمد للہ ۳۳ مرتبہ، سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ پڑھ لیا کرے تو۔ ۔ اکیلے ہو گئے جس کا ثواب دس گنا بڑھ کر ایک ہزار نیکیاں ہوگئیں۔ اب ان کی اور دن بھر کی نمازوں کے بعد کی میزان کل دو ہزار پانچ سو نیکیاں ہوگئیں، بھلا اعمال تولنے کے وقت ڈھائی ہزار برائیاں روزانہ کی کس کی ہوں گی جوان پر غالب آجائیں گے (۱۳۳) ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ کوئی شخص تم میں سے اس بات کو نہ چھوڑے کہ ہزار نیکیاں روزانہ کر لیا کرے۔ سبحان اللہ وغیرہ سومر تبہ پڑھ لیا کرے۔ (دس گنا بڑھ کر) یہ ہزار نیکیاں ہو جائیں گی۔ اتنے گناہ تو انشاء اللہ روزانہ کے ہوں گے بھی نہیں۔ اور اس تسبیح کے علاوہ جتنے نیک کام کئے ہوں گے ان کا ثواب علیحدہ نفع میں رہا۔ " (۱۳۶)

مغفرت کا معاملہ اگر اس قسم کے سادہ حساب کا معاملہ ہوتا تو صحابہ کا یہ حال نہ ہوتا کہ وہ آخرت کے خوف سے بے قرار رہتے اور یہ کہتے کہ کاش میں ایک تنکا ہوتا، کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ " من قال لا الہ الا اللہ مخلصا دخل الجنۃ" اس قسم کی روایات کی تشریح عام طور پر جس طرح کی جاتی ہے اس سے سخت غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ اخلاص کے ساتھ لا الہ کہنے کا مطلب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی تھوڑی دیر کے لئے کسی گوشہ میں بیٹھ جائے اور خوب احترام اور قرأت کے ساتھ ان الفاظ کی تکرار کرلے۔ اخلاص کا یہ مطلب نہیں ہے۔ اخلاص قلب کے اندر ایک انقلاب پیدا ہونے کا نام ہے نہ کہ تقدس یا احترام کے ظاہری آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے کچھ الفاظ کو دہرانے کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page