Al-Risala · April 1977 · page 53

کشمیر میں تین ہفتے

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۳

کشمیر میں تین ہفتے

اسلامی اسٹڈی سرکل جموں وکشمیر کی دعوت پر کشمیر کے سفر کا اتفاق ہوا اور ان کے سالانہ اجتماع (یکم۔ ۳ اکتوبر ۱۹۷۷ء) میں شرکت ہوئی۔

۱۹ - ۱۸ ستمبر کا دن جموں میں گزرا۔ جو دلی سے چھ سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ۱۹ ستمبر کی شام کو سری نگر پہنچا اور ۱۱ اکتوبر تک کشمیر میں قیام رہا۔ ریاست جموں و کشمیر دو مختلف جغرافیوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ جموں اونچا نیچا پہاڑی علاقہ ہے۔ اس کے راستے کافی دشوار گزار ہیں۔ اس کے برعکس وادی کشمیر نہی حد تک ایک مسطح علاقہ ہے سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر تقریباً دو سو کلومیٹر لمبا اور ڈیڑھ سو کلومیٹر چوڑا میدان اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ہے۔ وادی کشمیر ایک طرف حسین اور شاداب پہاڑی علاقہ ہے، دوسری طرف وہ اپنے اندر میدانی خصوصیات بھی پوری طرح رکھتا ہے۔

کشمیر میں جن مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا، وہ حسب ذیل ہیں :

جموں، سری نگر، گلگ مرگ، سوپور، بارہ مولہ سری نگر میں شالیمار، نشاط باغ، چشمہ شاہی، ڈل جھیل وغیرہ دیکھی۔ درگاہ حضرت بل اور دوسری بڑی بڑی زیارتوں کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مغلوں نے کشمیر میں جو باغات بنائے، وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ چار سو برس پہلے وہ اتنی عظیم منصوبہ بندی تک کیسے پہنچ سکے۔

کشمیر کے لوگوں کے متعلق میرا اندازہ ہے کہ عام طور پر وہ اتنے ہی عمدہ ہوتے ہیں جتنا کہ خود کشمیر کی محنت ، سادگی، مندمعیت کے مجموعہ کا نام کشمیری ہے جس پر مزید اضافہ ان کی فطری ذہانت ہے۔ مگر اس قیمتی انسانی گروہ کی سب سے بڑی کمزوری ، خاص طور پر مسلمانوں کی ، ان کا علم میں پیچھے ہونا ہے۔ علم و شعور میں پیچھے ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے درمیان صرف دو چیزیں فروغ پاتی ہیں: توہماتی مذہب یا جذباتی سیاست۔

حالیہ برسوں میں ، خاص طور پر شہروں میں ، سیکولر تعلیم کی طرف کافی رجحان بڑھا ہے ، تاہم دینی تعلیم کی طرف ابھی کوئی خاص پیش رفت نہ ہوسکی ۔ میرا خیال ہے کہ ایک عربی دینی درس گاہ کا قیام یہاں کی شدید ترین ضرورت ہے۔ دوسری چیز یہ کہ کشمیر ایک سیاحتی ریاست ہے۔ یہاں ساری دنیا سے مسلسل سیاح آتے رہتے ہیں ۔ کشمیر گویا ایک قسم کی عالمی زیارت گاہ ہے۔ اس صورت حال نے کشمیر کو ایک قدرتی پلیٹ فارم بنا دیا ہے جہاں سے عالمی سطح پر دعوت حق کا کام کیا جا سکتا ہے۔

کشمیر میں جماعت اسلامی نے دینی اصلاح کا کافی کام کیا ہے ۔ خاص طور پر یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ میں دینی رجحان پیدا کرنے کا کریڈٹ زیادہ تر اسی کو جاتا ہے۔ تاہم حال میں الیکشن سیاست کی طرف جھکاؤ نے مختلف پہلوؤں سے اس کے کام کو متاثر کیا ہے۔ اگر جماعت اسلامی یہاں الیکشن سیاست سے اپنے کو بچا سکے تو کشمیر میں دینی احیاء کے سلسلے میں قابلِ قدر خدمات انجام دے سکتی ہے۔

کشمیر میں اسلام کا آغاز غالباً محمد بن قاسم کے زمانہ میں دوسری صدی ہجری میں ہوا۔ اس کے بعد مختلف بزرگ یہاں اسلام کی روشنی پھیلاتے رہے ۔ سات سو سال پہلے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page