کشمیر میں تین ہفتے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵
کشمیر میں ایک بودھ راجہ تھا جس کا نام رینچن شاہ تھا۔ یہ راجہ حضرت بلبل شاہ کے ذریعہ مسلمان ہوا۔ اس زمانے میں لوگ اپنے سرداروں اور بادشاہوں کے دین پر ہوتے تھے۔ چنانچہ راجہ کو دیکھ کر بہت سے کشمیری مسلمان ہوگئے۔ بلبل شاہ صاحب فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ چنانچہ اس وقت جو لوگ مسلمان ہوئے، وہ ان کے اثر سے حنفی مسلک کے مطابق عبادت کرنے لگے۔
کشمیر میں اسلام پھیلانے کا کام سب سے زیادہ میر سید علی ہمدانی (۴۱۳۸۴۔ ۱۳۸۶ء) کے ذریعہ ہوا ، جن کو کشمیر میں ”امیر کبیر “ کہا جاتا ہے۔ سری نگر میں ان کی زیارت ”خانقاہ معلیٰ “ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جہلم کے کنارے ۱۳۹۵ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ موصوف جب ایران سے کشمیر آئے تو اس وقت یہاں جو مسلمان تھے، وہ حنفی مسلک پر عامل تھے جب کہ موصوف خود شافعی المسلک تھے۔ موصوف نے یہاں فقہی مسلک کی کوئی بحث نہیں چھیڑی۔ اس کی وجہ سے انھیں کشمیر میں کام کے بہت مواقع ملے۔ انھوں نے یہاں تک احتیاط کی کہ جو لوگ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوتے ان کو بھی ، عام مسلمانوں کے طریقے کے مطابق، حنفی مسلک کے مطابق عبادت کرنے کی تلقین کرتے۔ اپنا شافعی مسلک ان سے پوشیدہ رکھتے۔ اس حکمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر میں ان کو زبردست کامیابی ہوئی۔ بے شمار لوگ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ اگر وہ حنفی مسلک اور شافعی مسلک کی بحثیں چھیڑتے تو نا ممکن تھا کہ ان کو یہ کامیابی حاصل ہوتی اور بالفرض کوئی کامیابی ہوتی تو وہ بھی اس قیمت پر کہ کشمیر میں ان کی آمد کشمیری مسلمانوں کو دو متخارب فریقوں میں بانٹ دینے کا سبب بن جاتی۔ کشمیر میں زیارت گاہیں سینکڑوں کی تعداد میں پھیلی ہوتی ہیں۔ یہ زیارت گاہیں جن بزرگوں کی طرف منسوب ہیں اُن کے بارے میں عجیب عجیب قصے مشہور ہیں۔ مثلاً ایک نمبرگ بالکل ان پڑھ تھے۔ وہ بستی سے دور ایک جنگل میں چلے گئے۔ وہاں ایک کھوہ میں عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ ان کی مقبولیت دیکھ کر ملا، لوگوں کو خیال ہوا کہ انھیں زرک پہنچائیں۔ وہ ایک وفد کی صورت میں مذکورہ بزرگ کے پاس گئے۔ ان سے کہا کہ ہم آپ سے کچھ مسائل پوچھنے کے لئے آئے ہیں۔ بزرگ نے کہا میں تو ان پڑھ ہوں۔ ملا لوگوں نے کہا، خواہ کچھ ہو، آپ کھوہ سے باہر آئیے اور ہمارے سوالات کا جواب دیجیئے۔ بزرگ نے کہا اچھا ایک گوگلہ لاؤ۔ گوگلہ لایا گیا، انھوں نے اس کو منھ میں رکھ کر چبا یا اور پھر اس کو ایک پتھر پر پھینک دیا۔ ملا لوگوں نے دیکھا تو پتھر پر ان تمام سوالات کے جوابات لکھے ہوئے تھے جو وہ اپنے ذہن میں لے کر آئے تھے اور ابھی بزرگ موصوف کو بتایا بھی نہیں تھا۔
اس قسم کے بے شمار طلسماتی قصے کشمیریوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جیسا کہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان بے بنیاد قصوں نے نہ صرف دین کی حقیقت کو مسخ کر دیا ہے، بلکہ قوم کی فکری سطح کو انتہائی حد تک پست کر دیا ہے۔
کشمیر کو قدرت نے عجیب و غریب نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ گویا ایک جغرافی گلدستہ ہے جو حسین مناظر اور زندگی بخش قوتوں سے بھرا ہوا ہے۔ مگر یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہوگا کہ یہاں کے امکانات ابھی تک غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ یہاں ایسے جھرنے اور آبشار ہیں جن سے بڑے بڑے برقابی منصوبے چلائے جاسکتے ہیں۔ مگر کشمیر اب بھی پنجاب سے بجلی خریدتا ہے۔ یہاں بہترین چرا گاہیں ہیں جہاں ڈیری کی صنعت اور شہد کی مکھی پالنے کا کام بڑے پیمانہ پر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues