اداریہ
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳
اداریہ
اسلامی مرکز ، جس کے آرگن کے طور پر الرسالہ جاری کیا گیا ہے ، اس کا کوئی بھی تعلق سیاست سے نہیں ہے۔ اس کا مقصد تمام تر تعمیری اور اصلاحی ہے۔ ہمارا یہ خیال کہ دین کا کام سیاست سے الگ ہو کر کرنا چاہئے، کوئی نیا اور وقتی نہیں ہے۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب ، جن کی خصوصی سرپرستی اور نگرانی میں رسالہ جاری کیا گیا ہے۔ تقریباً ۴۰ سال سے اس نقطہ نظر کی وکالت کرتے رہے ہیں جس کا ثبوت موصوف کی مطبوعہ کتابوں اور چھپے ہوئے مضامین میں موجود ہے۔ پچھلے دس برس سے مولانا موصوف ہفت روزہ الجمعیتہ میں اس نقطۂ نظر پر جو کچھ لکھتے رہے ہیں، وہ سارے لوگوں کو معلوم ہے جس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تاہم موصوف کی قدیم مطبوعہ تحریروں میں سے ایک تحریر زیر نظر شمارہ میں نقل کی جارہی ہے۔ اس تحریر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انھوں نے سترہ سال پہلے، دین کی سیاسی تعبیر و تشریح کو ”فتنہ“ قرار دیتے ہوئے، کس طرح اس کے خلاف انتباہ دیا تھا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سیاست کو دین سے خارج سمجھتے ہیں۔ جو چیز زندگی سے خارج نہ ہو، وہ دین سے کس طرح خارج ہو سکتی ہے۔ ہمارا مقصد صرف اس نکتہ پر زور دینا ہے کہ دینی پروگرام کو لازماً سیاسی پروگرام کے ہم معنی نہ ہونا چاہئے۔ اسلام کا مقصد سیاسی نظام قائم کرنا نہیں ہے اور نہ یہ کہ سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو تو اس کے ماننے والے وقت کے حکمرانوں کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کرتے رہیں۔ ہمارا کام لوگوں کو آخرت کے مسائل کی طرف متوجہ کرنا ہے نہ کہ دنیا کے مسائل کی طرف۔
یہ ایک فطری بات ہے کہ کسی وقت خاص میں جو سیاسی اور اجتماعی حالات ہوں ان سے مسلمان متاثر ہوں جس طرح دوسرے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ مگر ہمارا رویہ محض ان خارجی اثرات کا نتیجہ نہ ہونا چاہئے بلکہ خود اپنے اسلامی فکر کے تحت بننا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ خارجی اثرات کو ہمیں برداشت کرنا ہے تاکہ ہم اپنے اصل مقصد ــــ پیغام خداوندی کی اشاعت کا کام صحیح طور پر جاری رکھ سکیں ۔
قرآن میں تمام عبادات سے زیادہ صبر واستقامت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کی حکمت یہی ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ناخوش گوار صورت پیش آئے تو جوابی ذہن کے تحت نہ اٹھ کھڑے ہو، بلکہ اپنے جذبات پر قابو رکھ کر غور کرو۔ تمھارا منصوبہ رد عمل کی نفسیات کا نتیجہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنی علیحدہ ایجابی فکر کے تحت بننا چاہئے۔
موجودہ حالات میں ہمارا سوچا سمجھا ہوا پروگرام یہ ہے :
۱۔ مسلمانوں کے اندر قرآنی طرزِ فکر پیدا کرنا، تعلیم اور دوسرے اشاعتی ذرائع سے ۔
۲۔ اپنے حقوق کے لئے احتجاج اور مطالبہ کی مہم ترک کرنا اور تعمیر و استحکام کے طریقہ کو رواج دینا۔ ۳۔ غیر مسلموں میں اسلام کا تعارف، لٹریچر اور دوسرے ذرائع سے ۔
(ظفر الاسلام خاں)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues