Al-Risala · February 1977 · page 4

رسالہ فروری ۱۹۶۶ء

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴

سترہ سال پہلے کی بات ہے، راقم الحروف نے ’’تاریخ سے سبق‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس میں سیاسی پارٹیوں کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اسلامی تحریک کو سیاسی انداز سے نہیں چلایا جا سکتا۔ موجودہ زمانہ میں انسان عام طور پر اس انداز میں سوچتا ہے کہ سماج کے سیاسی اور اقتصادی ڈھانچہ کو کس طرح بدلا جائے اور اس کو کس طرح نئی بنیادوں پر قائم کیا جائے ۔ ماحول میں اس طرز فکر کا رواج اسلام کے خادموں کے لئے ’’فتنہ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ہم نے اس سے بچنے کی کوشش نہ کی تو ہم خدا کے دین کو سیاست بنا کر رکھ دیں گے ـــــ " اور اس کے بعد ان تمام نتائج سے دوچار ہوں گے جو سیاسی تحریکوں کے لئے مقدر ہیں ۔ "

(زندگی رام پور ، ذی الحجہ ۱۳۷۹ھ)

اس کے بعد اگلے سال بدایوں (یوپی میں مسلمانوں کا ایک بڑا دینی اجتماع ہوا جس میں دوبارہ اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے ۱۴ اپریل ۱۹۶۱ء کی نشست میں ایک مفصل تقریر کی۔ یہ تقریر اسی زمانہ میں "قرآن کا مطلوب انسان" کے عنوان سے رسالہ زندگی رام پور میں شائع ہوئی تھی، اس کا ایک حصہ یہاں رسالہ مذکور کے قدیم فائل سے نقل کیا جارہا ہے ۱۷ برس پہلے اسلامی تحریک آخرت کے سوال کو لے کر اٹھتی ہے نہ کہ سیاست کے سوال کو یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام چیزوں کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ ایک ہی چیز سے آدمی نصیحت بھی حاصل کر سکتا ہے اور وہی بیک وقت اس کے لئے فتنہ میں پڑنے کا بھی ذریعہ ہے ۔ یہی حال خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ بلاشبہ قرآن کتاب ہدایت ہے۔ مگر قرآن سے آدمی کو وہی کچھ ملے گا جو وہ اس سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ قرآن کے ذریعہ بے راہ ہونے کی ایک صورت وہ ہے جس کو قرآن میں مضاہات کہا گیا ہے (توبہ۔ ۳۰) مضاہات کے معنی عربی زبان میں ہیں : مشاكلة الشيئ بالشئ (لسان العرب) یعنی کسی چیز کو دوسری چیز کے ہم شکل قرار دینا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیوی مصالح کی بنا پر اجنبی خیالات سے متاثر ہو کر ایک غیر قرآنی بات کو قرآنی بنا کر پیش کیا جائے ۔

رسالہ فروری ۱۹۶۶ء

مصا ہکا فی پہ جرافی اوری کے اندر خاموشی کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page