اور اس کے بعد ان تمام نتائج سے
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵
اور اس کے بعد ان تمام نتائج سے
دو چار ہوں گے جو سیاسی تحریکوں کے لئے مقدر ہیں ساتھ داخل ہوجاتی ہے۔ بہ خیال کہ جو بات لوگوں سے کہنی ہے وہ ایسی ہونی چاہئے کہ جو لوگوں کے ذہن سے قریب تر ہوتا کہ وہ اس کو قبول کر سکیں اور دوسرے یہ کہ بات کو ایسے الفاظ اور اصطلاحات میں پیش کیا جائے کہ وقت کا معیار فکر اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو وقت کے علمی خیالات کے ساتھ وہ پہلو یہ پہلو نہ چل سکے۔ یہ طرز امگر چہ بذات خود غلط نہیں ہے گر بعض مرتبہ وہ آدمی کے ذہن میں خدائی تعلیمات کی ایسی تصویر بنا دیتا ہے جو اصل تعلیمات سے زیادہ وقت کے نظریات سے مطابقت رکھنے والا ہو۔ خدائی تعلیمات سے جزوی مشابہت تو ضرور اس میں موجود رہتی ہے مگر در حقیقت وہ اسلامی الفاظ اور اصطلاحات میں غیر اسلامی خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے اگر بے جا جسارت نہ ہو تو میں عرض کروں گا کہ تصوف، جو بعض محققین کے نزدیک یونانی لفظ تھیوسوفیا (THEOSOFIA) کی تعریب ہے، وہ بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے جو دوسری صدی ہجری کے نصف آخر میں محض خارجی اثرات کے تحت اسلام کے اندر داخل ہوگیا۔ ہمارے قدیم بزرگ جب اسلام کا پیغام لے کر عرب کے باہر دوسرے ملکوں میں گئے تو انھوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں کچھ مخصوص افکار و اشغال لوگوں کے ذہنوں پر چھائے ہوئے تھے، اور مذہب اور مذہبی زندگی کا تصور ان کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان افکار و اشغال کی پشت پر ایک زبردست فلسفہ بھی موجود تھا۔ ان چیزوں نے کچھ دعوتی مصلحت اور کچھ انفعالی تاثر کے تحت ہمارے بزرگوں کو آمادہ کیا کہ وہ اسلام کو اس رنگ میں پیش کریں جس سے لوگ پہلے سے مانوس ہیں۔ اس طرح نبوت کے دو سو سال بعد اسلام کی متصوفانہ تعبیر ہماری تاریخ میں داخل ہوگئی۔
اب قدیم روحانی انداز میں سوچنے کا زمانہ ختم ہورہا ہے اور ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جیسا کہ ہر طرف معاشی اور سیاسی تحریکوں کا زور ہے۔ آج کا انسان عام طور پر اس انداز میں سوچتا ہے کہ موجودہ سماجی ڈھانچہ کو بدل کر کسی اور بنیا د پر دنیا کا نظام چلایا جائے۔ یہ اسی قسم کا ایک نیا فتنہ ہے جس سے ہمارے پیش روؤں کو سابقہ میں پیش آیا تھا۔ وہ اگر تعمیر روحانیت کا فتنہ تھا تو یہ تعمیر مادیت کا فتنہ ہے۔ اب اگر ہم نے اس فتنے کو نہ پہچانا اور اس سے اپنے دین کو محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کی تو ہم بھی دین کی تعبیر میں اسی قسم کی غلطی کریں گے جو اس سے پہلے صوفیائے کرام سے ہو چکی ہے، اور پھر قرآن کی ایک نئی تفسیر کر کے قدیم روحانی تصوف کی طرح اسلام کو جدید سیاسی تصوف بنا کر رکھ دیں گے اور اس کے بعد ان تمام نتائج سے دو چار ہوں گے جو سیاسی تحریکوں کے لئے مقدر ہیں۔ وحید الدین خاں (مطبوعه ماهنامه زندگی رام پور - ذی الحجه ۱۳۸۰ھ)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues