رسضحس ووی شکا کی ویل ھو
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۷
کہ انسانیت کے قافلہ کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے ایک بچہ کی چند روزہ دنیوی زندگی کو بچانے کا نعرہ رہا تھا۔ الرساله نے بتایا کہ سارے انسانوں کی زندگی خطرہ میں ہے۔ لوگ نہایت تیزی سے آخرت کے دائمی عذاب کی طرف چلے جارہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ مرنے سے پہلے انہیں پیغمبر خدا کی یہ چیتاونی پہنچادی جائے : انتم اليوم في عمل ولا حساب وَسَتَكُونُونَ غَدًا فِي حساب ولا عمل آج تم کو عمل کا موقع ہے اور تمھارے اوپر حساب نہیں ہے، آنے والی دنیا میں تم کو حساب دینا ہوگا اور عمل کا موقع نہیں ہوگا۔
یہ صحیح ہے کہ لفظی تعریف کے خطوط بھیجنے میں لوگوں نے ہمارے ساتھ بخل نہیں کیا۔ مگر جہاں تک حقیقی تعاون کا سوال ہے، ہر طرف سے ایک ہی خاموش صدا آ رہی ہے : زر می طلبی سخن درین است حال ہی میں نہرو کے شیدائیوں نے بمبئی میں دس کروڑ روپئے کے خرچ سے ایک عظیم الشان نہرو مرکز قائم کر دیا مگر اسلام کے شیدائیوں میں اسلامی دعوت کا مرکز قائم کرنے کا کوئی حوصلہ نہیں۔
مگر یاد رکھیے، یہ صرف دوسروں کو آگ سے بچانے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ خود اپنے آپ کو بچانے کا معاملہ بھی ہے۔ آخرت کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے اگر ہم نہیں اٹھتے تو ہم نہ صرف اپنے فرض کو چھوڑ رہے ہیں بلکہ یہ ثبوت بھی دے رہے ہیں کہ ہم کو آنے والے ہولناک دن کا یقین نہیں۔ اس دہرے جرم کے بعد آخر وہ کون سی چیز ہوگی جو اس دن کی پکڑ سے ہم کو بچا سکے جب مالک کائنات کی عدالت قائم ہوگی۔ جب نہ کسی کے لئے دلیل بازی کا موقع ہوگا اور نہ کوئی مادی سہارا کسی کے کام آسکے گا ۔ والامر یو مئذ للہ مسلمان خدا کی طرف سے اس ذمہ داری پر مقرر کئے گئے ہیں کہ وہ تمام اہل عالم کو یہ بتا دیں کہ ان کا رب ان سے حساب لینے والا ہے۔ اس تقرر نے ان کے حال اور مستقبل کو اس کار خاص کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ خدا کی نظر میں ان کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ خدائی پیغام رسانی کی اس خدمت کو انجام دیں۔ اگر وہ اس کے لئے نہ اٹھیں تو خدا کے نزدیک وہ اپنی قیمت کھو دیں گے ۔
اس ذمہ داری کو چھوڑنے کے بعد کوئی بھی دوسرا عمل ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد خدا ان کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دے گا، ان کے اوپر دوسری قومیں غلبہ حاصل کریں گی، حتیٰ کہ دوسری بنیادوں پر اٹھائی ہوئی ان کی اسلامی تحریکوں پر بھی رولر چلا دیا جائے گا۔ خود ساختہ خیالات کی بنا پر اگر چہ وہ خوش فہمیوں میں مبتلا رہیں گے۔ مگر حالات کی بے رحم زبان چیخ رہی ہوگی کہ ان کا خدا ان کو چھوڑ چکا ہے۔
اقوام عالم کے سامنے اللہ کے دین کی گواہی دینے کے لئے اگر مسلمان نہیں اٹھتے تو ان کی کوئی قیمت خدا کے نزدیک نہیں ہے، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں ۔ یہود کی تاریخ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues