الاسلام متحدى
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۸
اسلام کے داعی کے اندر کیا اوصاف ہونے چاہئیں شیخ الازھر ڈاکٹر عبد الحلیم محمود جامعہ ازہر کے شیخ ڈاکٹر عبد الحلیم محمود نے نومبر ۱۹۷۵ء میں ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس سلسلے میں وہ جامعہ ڈابھیل (سورت) بھی گئے۔ یہاں اساتذہ طلبہ اور مقامی لوگوں پر مشتمل ایک اجتماع ہوا جس میں تقریباً دس ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ اس موقع پر شیخ الازہر نے ۱۱ نومبر کو جو عربی تقریر کی تھی اس کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
(بعد حمد و صلوٰۃ) کون سی شرطیں ہیں جن کا پایا جانا داعی کے اندر ضروری ہے۔ پہلی چیز یہ ہے کہ داعی بصیرت کے ساتھ دعوت پیش کرے ۔ اللہ تعالیٰ علی بصیرة انا ومن اتبعنی من المسلمین یعنی داعی کے اندر پہلی چیز جس کا پایا جانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دعوت کے سلسلے میں اسے پوری بصیرت حاصل ہو اور بلا شبہ بصیرت علم کو بھی متضمن ہے یعنی داعی کو دعوت کے طریقے اور انداز سے بھی واقف ہونا چاہئے، اسے قرآن کا علم ہونا چاہئے۔ اسے حدیث سے واقفیت ہونی چاہئے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ۔
اللہ نے فرمایا لا یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون - آنحضورؐ نے فرمایا۔ اطلبوا العلم ولو کان با لصین اور فرمایا طلب العلم فریضۃ نے فرمایا ہے: قل ھذا سبیلی ادعو الی اللہ علی کل مسلم و مسلمة - معلوم ہوا کہ دعوت کے " موجودہ زمانہ میں اسلام کے بارے میں بہت سے شبہات پیدا ہو گئے ہیں ان شبہات موجودہ زمانہ میں اسلام کے بارے میں بہت شبہات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے واقفیت اور ان کے جواب سے واقفیت اسلام کے ایک داعی کے لئے ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں ان کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ ان کتابوں میں اس قسم کے شبہات کا کافی وشافی رد موجود ہے :
الاسلام متحدى
ہا اس میں دیں. یوں اس نام سے ہے۔ ہو سکتا ہے وحیدالدین خاں حقائق الإسلام واباطیل الخصوم عباس محمود العقاد الاسلام والعصر الحدیث ڈاکٹر اسماعیل الوحي المحمدی رشید رضا مصری "
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues