Al-Risala · February 1977 · page 10

لطفه

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰

ماحول کی پوری رعایت رکھے۔ ہر طبقہ کے ساتھ اور ہر فضا میں اس طریقے کو اختیار کرے جو طریقہ کہ دعوت کی کامیابی کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ادع الى سبيل ربك بالحكمة و الموعظة الحسنة میں فرمایا ہے۔ حالات اور زمانہ کے اعتبار سے دعوت کا وہ طریقہ اختیار کرے جو انسانی مزاج کے مطابق اور حالات کے موافق ہے حکمت و موعظت کا وہ اسلوب اختیار کرے جو قلب کو داعی کی طرف مائل کرے، احساسات کو ابھارے اور انسان کو اللہ کی طرف متوجہ کرے۔

فرمایا گیا وجادلهم بالتی هی احسن - نرم خوئی اور نرم گوئی دعوت کی اساسی شرطوں میں سے ہے۔ فرمایا گیا - ولو كنت فظا غليظ القلب لا نفضوا من حولك آیت مذکورہ میں دوسری بات جو فرمائی گئی وہ عمل صالح ہے اور عمل صالح سے مراد ہر وہ عمل ہے جو اسلامی ہے شریعت اسلامیہ کے مطابق ہے اسلام کے مزاج سے میل کھاتا ہے، اور عمل کی غرض و غایت اللہ کی ذات ہے۔ موضوع اور نیت ہر اعتبار سے اسلام کے مطابق ہے۔ اگر نیت خالص نہ رہی یا عمل سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کوئی اور مقصود رہا تو اس عمل کو نہ اسلامی کہا جائے گا اور نہ اس کا نام عمل صالح رکھا جائے گا۔ اس بات پر موجودہ زمانہ میں تنبیہ حاصل کرنا ضروری ہے کہ جو عمل نیت اور موضوع کے اعتبار اسلامی ہوگا وہی عمل صالح کہلائے گا۔ تیسری اور آخری بات جو اس آیت میں فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وقال اننى من المسلمين - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ان تسلم قلبک یعنی اللہ کے لئے تمھارا دل جھک جائے۔ یہی اسلام ہے۔ جس چیز کا اللہ نے حکم دیا ہے اُسے کرو اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سے رک جاؤ یعنی تمھارے اندر عبدیت اور خضوع کی پوری شان نمایاں ہو، یہ ہے اسلام اور اللہ کو واحد جانو۔ سر تمھارا اللہ ہی کے لئے جھکے اور ہر معاملے میں اسی کی اطاعت و انقیاد ہو۔ یہی اسلام کے حقیقی معنی ہیں * (الجمعیۃ ۲۱ نومبر ۱۹۷، ۶۱۹)

لطفه

گاما پہلوان (۱۹۵۸ - ۱۹۷۵ء) کو ۲۰ سال کی عمر میں رستم ہند اور اس کے بعد رستم زماں کا خطاب ملا تھا۔ ایک بار جلسہ ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر محمد اقبال صدر تھے۔ گاما بھی جلسہ میں موجود تھے۔ لوگ بول چکے تو آخر میں ڈاکٹر اقبال نے اعلان کر دیا کہ گاما اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ گاما پہلوان کھڑے ہوئے کچھ دیر انھوں نے جسم کو حرکت دی ، ہاتھ ادھر ادھر ہلایا اور کہا ”بھائیو! ورزش کیا کرو“ جب وہ اپنی مختصر تقریر ختم کر کے بیٹھے تو دیکھنے والوں نے یہ دیکھا کہ گاما پہلوان کی نہ صرف پیشانی پر قطرات نمایاں تھے بلکہ کُرتا بھی بھیگ چکا تھا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page