Essays on Truth and Reality, P. 446
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۴
بیسویں صدی کے آغاز میں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ یورپ اپنی تمام مادی ترقیوں کے باوجود ایک احساس ناکامی سے دو چار ہے۔ اس کو نظر آرہا ہے کہ اس کی سائنس اور ٹکنالوجی نے اس کو مشینیں اور سواریاں تو دیں، مگر اس کو وہ فلسفہ حیات نہ مل سکا جو اس کو یقین کی دولت عطا کرتا۔ انگریز فلسفی بریڈ لے (۱۹۲۴۔ ۱۸۳۶) نے موجودہ صدی کے ربع اول میں کہا تھا:
دنیا کو ایک نئے مذہب (New Religion) کی ضرورت ہے، ہمیں ایک ایسا عقیدہ چاہیے جو تمام انسانی مفادات کا تعین کرے اور ضروری تناسب کے ساتھ اس کے جواز کی بنیاد ہو، اور اسی کے ساتھ وہ شعور عطا کرے، جس سے انسان اس پر اعتماد کے ساتھ قائم ہو سکے "
Essays on Truth and Reality, P. 446
اس کے بعد خود مغربی ممالک میں ایسے لوگ اٹھے جنھوں نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ ان کے پاس خدا کی جو امانت ہے، وہ یورپ کی اس فکری کمی کو پورا کر سکتی ہے، وہ اس کو لے کر اٹھیں اور اہل عالم تک اس کو پہنچا کر اپنا خدائی فریضہ ادا کریں۔ لارڈپی۔ ایچ۔ کے۔ لو تھین (۱۸۸۲۔ ۱۹۳۰) چالیس سال پہلے ہندوستان آئے تھے اور ۱۹۳۸ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تقسیم اسناد کے جلسہ کی صدارت کی تھی۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے خطبہ میں کہا تھا: "یورپ اپنے سیاسی، معاشی، تمدنی اور عائلی مسائل کا تسلی بخش حل دریافت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ آپ حضرات کا دعویٰ ہے کہ اسلام زندگی کا مکمل دستور العمل ہے اور اس میں اجتماعی مسائل کا بہترین حل موجود ہے۔ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ بلادِ مغرب میں جا کر وہاں کے باشندوں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کریں" (خطبہ تقسیم اسناد)
منٹگمری واٹ ( - ۱۹۰۹) نے اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں مسلمانوں کی غیرت کو پکار ا۔ پیغمبر پیغمبر اسلام کی سیرت پر اپنی کتاب میں انھوں نے لکھا:
" دنیا بہت تیزی سے ایک ہوتی جا رہی ہے اور اس ایک دنیا میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ اس کے اندر اتحاد اور یکجہتی ہو۔ اس رجحان کی وجہ سے یقیناً وہ دن آئے گا جب کہ یہاں اخلاقی اصولوں کا ایک ایسا نظام ہو گا جو نہ صرف عالمی جوڑا رکھتا ہوگا بلکہ في الواقع وہ ساری دنیا میں تسلیم کیا جا چکا ہو گا۔ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ محمد تمام نوع انسانی کے لئے ایک عملی اور اخلاقی نمونہ ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دنیا کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ ان پر رائے قائم کر سکے۔ اب تک یہ معاملہ دنیا کی بہت کم توجہ اپنی طرف مائل کر سکا ہے۔ مگر اسلام کی قوت کی وجہ سے یہ بالآخر اہمیت حاصل کرلے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا محمد کی زندگی اور تعلیمات میں سیکھنے کے قابل کچھ اصول ہیں جو مستقبل کی دنیا کو واحد اخلاقی نظام عطا کر سکیں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues