Al-Risala · February 1977 · page 15

میجر بلیکر

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵

دنیا کو ابھی تک اس سوال کا آخری جواب نہیں دیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے محمد کے بارے میں اپنے دعوے کی تائید میں اب تک جو کچھ کہا ہے، وہ اس سلسلہ میں بس ایک ابتدائی بیان کی حیثیت رکھتا ہے اور بہت کم غیر مسلم اس سے مطمئن ہو سکے ہیں۔ تاہم یہ موضوع ابھی کھلا ہوا ہے۔ دنیا کا ردِ عمل محمد کے بارے میں کیا ہوتا ہے، کسی حد تک اس پر منحصر ہے کہ آج کے مسلمان اس کے لئے کیا کرتے ہیں۔ انہیں اب بھی یہ موقع حاصل ہے کہ بقیہ دنیا کے سامنے اپنے مقدمہ کو زیادہ بہتر اور مکمل طور پر پیش کریں۔ کیا مسلمان یہ دکھا سکیں گے کہ ایک متحدہ دنیا کی اخلاقیات کے لئے محمد کی زندگی ایک آئیڈیل انسان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر مسلمان اپنے مقدمہ کو بہتر طور پر پیش کر سکیں تو عیسائیوں میں وہ ایسے لوگ پائیں گے جو اس کو سننے کے لئے تیار ہیں۔ “ (صفحہ ۳۳۳) Montgomery Watt Mohammad As Model for Universal Morality اس طرح کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مگر کیسی عجیب بات ہے ۔ مسلمان اس پوری مدت میں مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی تو لڑتے رہے جس میں مغرب صریح طور پر ان کے اوپر برتری رکھتا تھا۔ مگر فکری اور اعتقادی میدان جو مغربی قوموں کا کمزور گوشہ تھا وہاں ان پر کوئی جدو جہد نہ کی۔ نادانی کی ایسی عجیب غریب مثال شاید پوری تاریخ میں کوئی دوسری نہیں ملے گی۔

فکری اور نظریاتی طاقت کی اہمیت کیا ہے، اس کی ایک مثال یہاں ہم خود جدید مغربی تاریخ سے پیش کریں گے۔ پہلی جنگ عظیم (۱۸–۱۹۱۴) کے دوران روس میں کمیونسٹوں کا غلبہ برطانیہ عظمیٰ کے لئے ایک سوالیہ نشان تھا۔ کیونکہ یہ برطانوی سلطنت کے ”مشرقی حصہ“ کے لئے خطرہ کے ہم معنی تھا۔ نومبر ۱۹۱۸ء میں انگریز فوجی افسروں کا ایک وفد صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لئے سمر قند پہنچا۔ اگرچہ بظاہر یہ بتایا گیا تھا کہ یہ ایک تجارتی وفد ہے اور وسط ایشیا کی کپاس کا سودا کرنے جا رہا ہے۔ وفد کے ممبران یہ تھے: (Colonel F.M. Bailey)

کرنل بیلی (Colonel P.T. Etherton)

کرنل ایتھرٹن (Major L.V.S. Blacker)

میجر بلیکر

واپسی کے بعد کرنل ایتھرٹن نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ”وسط ایشیا کے قلب میں“ In the Heart of Central Asia انھوں نے اپنی اس کتاب میں جو باتیں لکھیں ، ان میں سے ایک یہ تھی :

The new set of ideas of the Bolsheviks was potentially much more of a menace to English domination in the orient than all of the Czar's armies in the past. یعنی بالشویکوں کے نظریات بالقوہ طور پر برطانیہ کے مشرقی مقبوضات کے لئے اس سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ ماضی میں زار کی تمام فوجیں ہو سکتی تھیں۔ (۹۳ - ۹۲)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page