میجر بلیکر
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۹
سیکڑوں ملین کی تعداد میں ہو، اگر تم مکھیاں ہوقے تو تمھاری بھنبھناہٹ برطانیہ عظمیٰ کرکے کانوں کو بہرا کردیتی، اور مسٹر گلیڈسٹون کے کان اس سے سُن ہو جاتے۔ اور اگر تم یہودی ہوتے اور خدا نے تم کو مسخ کے تم میں سے ہر ایک کو کچھوا بنا دیا ہوتا اور تم سمندر کو تیر کر جزیرہ برطانیہ پہنچ جاتے تو تمھارے بوجھ سے جزیرہ غرق ہو جاتا اور تم آزاد ہو کر اپنے ملک میں واپس آتے۔
۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ نے تقسیم فلسطین کا اعلان کر دیا، اور یہودیوں کی حکومت تسلیم کرلی۔ اسرائیل کو اقوام متحدہ کا ممبر بھی نامزد کر دیا گیا شیخ حسن البنا (۱۹۴۸ - ۱۹۰۲) اپنی بارعب شخصیت اور پُر زور خطابت کی وجہ سے اس وقت مصر کے انتہائی مقبول قائد بن چکے تھے۔ انھوں نے اس مسئلہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا:
”اے اہل مصر، کل ہی کی توبات ہے کہ ہیضہ کی وبا میں مصر کے چالیس ہزار افراد نے دست وتے میں مبتلا ہو کر جان دے دی، اور تم نے اسے برداشت کر لیا۔ اب کیا تم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے چالیس ہزار آدمی اور بھی، ہمارے محبوب فلسطین کی آزادی کی خاطر خاک خون میں لوٹ کر شہادت کا درجہ حاصل کر لیں؟ اس قسم کے خطیب سارے عالم اسلام میں پیدا ہوئے۔ اس پوری مدت میں کوئی لیڈر ایسا نہ اٹھا جو علمی تجزیہ اور سائنسی ذہن سے مسلح ہو۔ ہر ایک کے پاس بس شعر و خطابت کا طوفان تھا۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ جس طرح عورتوں کے کوسنے سے انگریزی فوجوں کی توپ میں کیڑے نہیں پڑ سکتے تھے۔ اشعار اور خطبار کی لفاظیوں سے ملت کی تعمیر بھی ممکن نہ ہوسکی۔ ڈیڑھ سو سالہ بلند بانگ کوششوں کا انجام اس کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔
ایجنسی کی شرائط
۱۔ کم از کم دس پرچوں پر ایجنسی دی جائے گی۔ ۲۔ کمیشن پچیس فی صد ۳۔ پیکنگ اور روانگی کے اخراجات ادارہ الرسالہ کے ذمے ہوں گے۔ ۴۔ مطلوبہ پرچہ کمیشن وضع کر کے بذریعہ وی۔ پی روانہ ہوں گے۔ ۵۔ غیر فروخت شدہ پرچے واپس لے لئے جائیں گے۔ منیجر الرسالہ ۱۰۳۰ اکشن گنج، دہلی ۔ ۶
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues