Al-Risala · February 1977 · page 18

میجر بلیکر

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸

حقائق کا مقابلہ الفاظ سے نہیں کیا جاسکتا نواب واجد علی شاہ فروری ۱۸۵۶ء تک اودھ کے حکمران تھے۔ ان کو "سلطان عالم" کا خطاب حاصل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب ملک کے بیشتر حصوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ ہوگیا اور خبریں آنے لگیں کہ انگریزی فوجیں لکھنؤ کی طرف بڑھ رہی ہیں تو نواب اودھ کی عورتیں محل میں نواب کے گرد جمع ہوئیں اور دشمن کو کوسنا شروع کیا : "موئے فرنگیوں کی توپوں میں کیڑے پڑیں"۔ نواب اودھ کے محل کا یہ واقعہ بظاہر ایک انوکھا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن غور سے دیکھیے تو موجودہ زمانے میں ہمارے لیڈروں کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ پچھلی صدیوں میں جب مغربی قومیں اسلامی ملکوں پر چھا گئیں تو اس کے مقابلہ کے لئے ساری مسلم دنیا میں بے شمار لیڈر اٹھ کھڑے ہوئے۔ مشرق کے اوپر مغرب کا یہ غلبہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک سائنسی واقعہ تھا نہ کہ سادہ معنوں میں محض ایک سیاسی واقعہ۔ مگر اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے درمیان جو لوگ اٹھے وہ سب شاعر تھے یا خطیب۔ یہ غالب قومیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے زور پر آگے بڑھ رہی تھیں۔ مگر ان کو مغلوب کرنے کے لئے ہمارے لیڈروں کے پاس جو چیز تھی، وہ صرف پرشور الفاظ کا طوفان تھا۔ نواب اودھ نے مشین کا مقابلہ اگر عورتوں کے کوسنے سے کرنا چاہا تھا تو لیڈروں نے مشین کا مقابلہ شاعری اور خطابت کے ذریعے کرنے کی کوشش کی۔ ان دونوں چیزوں میں ظاہر کے اعتبار سے تو ضرور فرق ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔

مولانا محمد علی (۱۹۳۱ء - ۱۸۷۸ء) کی تقریر و تحریر کا نقشہ رشید احمد صدیقی نے ان لفظوں میں کھینچا ہے : روکس بلا کے بولنے اور لکھنے والے تھے۔ بولتے تو معلوم ہوتا ابو الہول کی آواز اہرام مصری سے ٹکرا رہی ہے۔ لکھتے تو معلوم ہوتا کرپ کے کارخانے میں توپیں ڈھل رہی ہیں یا پھر شاہجہاں کے ذہن میں تاج کا نقشہ مرتب ہو رہا ہے۔ میں نے ان کو اسٹیج پر آتے اور بولتے ہوئے سنا ہے۔ اور محمد علی کو داد دینے سے پہلے انیس کو داد دی ہے : ضیغم ڈکارتا ہوا نکلا کچھار سے ‘‘ جمال الدین افغانی (۱۸۹۷ء - ۱۸۳۸ء) کی تقریر کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔ ۱۸۶۸ء میں وہ ہندوستان آئے تھے اور زیادہ تر حیدر آباد میں مقیم رہے۔ یہاں انھوں نے ہندوستانیوں کے ایک مجمع میں تقریر کرتے ہوئے کہا:

يا اهل الهند، وعن الحق وسر العدل، لو كنتم، وانتم مئات الملايين، ذبابا لكان طنينكم يصم آذان بريطانيا العظمى ويجعل في آذان كبيرهم المستوغلاد ستون وقرا، ولو كنتم، وانتم مئات الملايين من اليهود قد مسخكم الله فجعل كلا منكم سلحفاة وخضنتم البحر واحظتم ببحزيرة بريطانيا العظمى لجررتموها الى القعر، و عدتم الى هند كم احرارا (۷۰)

اے ہندوستان والو، عزت حق اور راز عدل کی قسم، تم جو

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page