میجر بلیکر
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۱
بھیگے ہوئے پیال میں— Mushrooms sprouting in a bed of wet paddy straw. کھمب ایک مفید زراعت ہے اور پروٹین حاصل کرنے کا قیمتی ذریعہ بھی، کُھمب (MUSHROOM) نہایت مفید غذا ہے، باہر کے ملکوں میں اس کو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے ۔ تاہم ہندوستان میں ابھی زیادہ تر پنجاب کے علاقہ میں اس کو مقبولیت حاصل ہو سکی ہے ۔
عوام میں مشہور ہے کہ جہاں کتا پیشاب کرے وہاں کھمب پیدا ہو جاتا ہے ، اسی لئے کچھ لوگ اس کو لگر مٹا بھی کہتے ہیں ۔ مگر یہ بالکل غلط ہے۔ کھمب قدرت کا ایک قیمتی نباتاتی عطیہ ہے اس کا کتے کے پیشاب سے کوئی تعلق نہیں۔
کھمب کی اہمیت یہ ہے کہ وہ نباتاتی پر وٹین حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور سستا بھی۔ وہ گھر کے صحن میں بھی اگایا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ بانس کی ٹوکری میں بھی۔ چند برس پہلے کھمب ایک مہنگی غذا تصور کی جاتی تھی۔ کیونکہ وہ زیادہ مقدار میں دستیاب نہیں ہو سکتی تھی ۔ اب پنجاب کے علاقہ میں اس کی پیداوار کافی بڑھی از رسالہ فروری ۱۹۷۷ء رہی ہے۔ پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی نے اس سلسلے میں کافی دل چسپی لی ہے اور اس کا مائیکرو بیالوجی کا شعبہ کسانوں کو کھاد پیدا کرنے میں خصوصی مدد دے رہا ہے۔ کھمبی کی پیداوار حاصل کرنے کے لئے صرف ایک شیڈ اور کچھ معمولی سامان درکار ہوتا ہے جو بآسانی دہیات میں مل جاتا ہے۔ کھمبی کی مانگ بیرونی علاقوں میں بھی کافی ہے۔ پٹیالہ کے کسانوں نے کھمبی کی پیداوار کے ساتھ کیننگ یونٹ بھی لگائی ہے۔ وہ اپنی پیداوار کو کلکتہ اور مدراس کے بازار میں بھیج کر کافی نفع حاصل کر رہے ہیں۔ ہماچل پردیش میں کھمبی کے فارم ہیں۔ ہماچل یونیورسٹی کا زرعی شعبہ سولان میں اپنی زمین پر کھمبی کی کاشت کر رہا ہے اور اس سلسلے میں قیمتی تحقیقات کی ہیں جو کسانوں کے لئے بہت مفید ہو سکتی ہیں۔ ڈوچی اور چال کے کسان اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ ۲۵۰ کسانوں نے کھمبی کی کاشت کی تربیت حاصل کی ہے جن میں سے ۶۵ کسانوں نے باقاعدہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues