Al-Risala · February 1977 · page 22

میجر بلیکر

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۲

طور پر اس کی کاشت شروع کر دی ۔

کھمب بہت نازک پودا ہے ۔ وہ بہت جلد خراب ہو جاتا ہے اس لئے اس کی کاشت اسی وقت مفید ہے جب کہ اس کی نکاس کا فوری اور معقول انتظام موجود ہو۔ پنجاب کے شہروں میں اب عام طور پر کھمب کی فروخت ہونے لگی ہے۔ کھمب کی بہت سی قسمیں ہیں۔ فی الحال پنجاب کے کسان دو قسم کے کھمب کی کاشت پسند کرتے ہیں۔ اس کی کاشت اپریل سے اگست تک کی جاتی ہے ۔

کھمب کی پیداواری لاگت فی کلو گرام تقریباً ڈھائی روپے ہے جب کہ بازار میں ایک کلو کھمب ۱۰ سے ۵ اپنے تک فروخت ہوتا ہے۔ بڑے شہروں میں مثلاً دہلی میں اس کی قیمت ۳۰ روپے کلو تک ہے ۔

اگر جدید اصولوں کے مطابق پیکنگ کا انتظام ہو تو کھمب کے لئے بیرونی ملکوں میں بھی اچھا مارکٹ مل سکتا ہے۔ جن لوگوں کو کھمب کی کاشت سے دل چسپی ہو انہیں مزید معلومات کے لئے ہماچل یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی سے رابطہ قائم کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ حکومت نے خاص اس مقصد کے لئے ایک مستقل ادارہ ہماچل پردیش میں قائم کر رکھا ہے ۔

The Mushroom Institute College of Agriculture Solan, Distt: SIRMUR Himachal Pradesh کھمب اپنی اصل کے اعتبار سے نباتات ہی کی ایک قسم ہے۔ اس کا رنگ سفید اس لئے ہوتا ہے کہ دیگر پودوں کی طرح اس میں سبز نباتاتی مادہ (کلوروفل) نہیں ہوتا ۔ کلوروفل نہ ہونے کی وجہ سے وہ سورج کی شعاعوں کی مدد سے اپنے لئے غذا نہیں تیار کر سکتا۔ وہ مردہ نامیاتی چیزوں سے اپنے لئے غذا حاصل کرتا ہے۔ اس کا شمار ان پودوں میں ہوتا ہے جو اپنی غذا خود تیار نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی تیار غذا پر گزر کرتے ہیں۔ اس قسم کے پودوں کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ مردہ نباتاتی مواد کو تحلیل کرکے اس کی کاربن ڈائی آکسائڈ کو نکال دیتے ہیں اور اس طور پر پودوں کے لئے کھاد مہیا کرتے ہیں۔ کھمب (کلاہ باراں) کی تقریباً سات ہزار قسمیں شمار کی گئی ہیں۔ فرانس، امریکہ، یونان اور اٹلی میں لوگ بہت شوق سے اس کو کھاتے ہیں۔ کھمب کی بعض قسمیں زہریلی ہوتی ہیں جودوا میں کام آتی ہیں۔ کھمب یا کلاہ باراں میں غذائیت کا تناسب کیا ہے، اس کو مندرجہ ذیل نقشہ سے سمجھا جا سکتا ہے: پانی ۸۹٫۲ فی صد نائٹروجن کے مرکبات ۰٫۳ فی صد نائٹروجن مرکبات کا تقریباً حصہ فورا ہضم ہو کر جزو بدن بن جاتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹ ۴٫۲ فی صد شکر ۰٫۱ فی صد چر بی ۰٫۴۴ فی صد معدنیات ۳۱٫۳ فی صد معدنیات میں زیادہ ترپو ٹا شیم اور فاسفورک ترشہ پایا جاتا ہے۔

اس تناسب سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دیگر تازہ ترکاریوں کی نسبت کلاہ باراں میں غذا کس قدر زیادہ ہے۔ صرف پیرس میں سایہ دار مقامات پر ڈیڑھ لاکھ من کھمب پیدا کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page