اصحاب رسول : وہ کیسے لوگ تھے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰
وارغب في الآخرة حلية الأولياء، جلد ۱، صفر ۱۳۷ قال على بن ابى طالب ، والله لقد رأيت اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما ارى اليوم شيئا يشبههم، لقد كانوا يصبحون صفر اشعثا غبرا، و حملت اعينهم حتى تبل ثيابهم، والله فكأن القوم باتوا غافلين البداية والنهاية، جلد ۸، صفحه سئل عبد الله بن عمر، هل كان اصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يضحكون - قال نعم والایمان فى قلوبهم اعظم من الجبال (اخرجه ابو نعيم عن قتادة)
دخل ضرار بن ضمرة الكناني على معاوية فقال له - صف لي عليا - قال: انه كان يستوحش الدنيا وزهرتها، ويستأنس بالليل وظلمته ـ كان والله غزيرا العبرة ، طويل الفكرة ـ يقلب كفه و يخاطب نفسه - يعجبه من اللباس ما تقص ومن الطعام ماجشب ـ يعظم اهل الدين ويحب المساكين لا يطمع القوى في باطله اور آخرت کے بہت زیادہ مشتاق تھے۔
علی بن ابی طالب نے کہا، خدا کی قسم میں نے اصحابِ رسول کو دیکھا ہے، آج کوئی چیز ان کے مشابہ نہیں، وہ خالی ہاتھ، پراگندہ بال اور غبار آلود ہو کر صبح کرتے تھے۔ ان کی آنکھیں اتنا آنسو گرائیں کہ ان کے کپڑے بھیگ جاتے۔ خدا کی قسم آج کے لوگوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے غفلت میں رات گزاری۔
عبداللہ بن عمر سے پوچھا گیا، نبی کے اصحاب کیا ہنستے بھی تھے ۔ انھوں نے کہا ہاں۔ اور ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا ہوتا تھا۔
ضرار بن ضمرہ امیر معاویہ کے پاس آئے۔ امیر معاویہ نے کہا۔ مجھ سے علی کے اوصاف بیان کرو۔ انھوں نے کہا۔ علی، دنیا اور اس کی رونق سے وحشت محسوس کرتے تھے۔ ان کو رات اور رات کی تاریکی سے انس تھا۔ خدا کی قسم وہ بہت زیادہ عبرت پکڑنے والے، طویل فکر کرنے والے تھے، اپنی ہتھیلی کو پلٹتے اور اپنے نفس کو مخاطب کرتے۔ مختصر لباس اور معمولی کھانا ان کو پسند ہوتا۔ وہ دنوں میں دعوت کرتے ، مسکینوں کو دوست رکھتے۔ ولا ييأس الضعيف من عدله - فاشهد بالله لقد رأيته في بعض مواقفه وقد أرخي الليل سدوله وغارت نجومه يميل في محرابه قابضا على لحيته يتململ تململ السليم ويبكى بكاء الحزين - فكأنى اسمعــه الآن وهو يقول ياربنا يا ربنا (ابو نعیم) طاقت ور اپنے باطل میں ان سے امید نہ کر سکتا تھا اور کم زور ان کے انصاف سے نا امید نہ ہوتا تھا۔ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے علی کو بعض مواقع پر دیکھا ہے جب کہ رات کی تاریکی چھا رہی تھی اور ستارے غروب ہو رہے تھے۔ آپ اپنے محراب میں داڑھی پکڑے ہوئے اس طرح بے چین تھے جیسے زہریلے جانور کا ڈسا ہوا بے چین ہوتا ہے۔ غم زدہ کی طرح رورہے تھے۔ جیسے اب بھی میں ان کو بے قرار حالت میں یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں۔ اے ہمارے رب ! اے ہمارے رب ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues