اصحاب رسول : وہ کیسے لوگ تھے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۴
سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ پست فطرت لوگ کبھی اپنی ذات کے خول سے نکل نہیں پاتے ۔ اس لئے وہ اسلام کے اونچے مقام کا تجربہ بھی نہیں کر سکتے : وَمَا يُلَقّٰهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ خم سجدہ - ۳۵ معاصرین کی رائے :
اور یہ بات انھیں کو ملتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے ۔
اصحاب رسول کے بارے میں یہاں تک کہ بعض معاصرین کے تاثرات نقل کئے جاتے ہیں۔ عن عبد الله بن مسعود قال ان الله نظر في قلوب العباد فاختار محمد ا صلى الله عليه وسلم فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه ، ثم نظر في قلوب الناس بعده فاختار الله له اصحابا فجعلهم انصار دينه ووزراء نبياء صلى الله عليه وسلم ابن عبد البر، الاستيعاب ، جلدا، صوف عبدا للہ بن مسعود کہتے ہیں ۔ اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا ۔ پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا۔ پیغمبر ی کے لئے آپ کی بعثت فرمائی ۔ آپ کو آپ کے علم کی وجہ سے منتخب کیا۔ اس کے بعد لوگوں کے دلوں کو دیکھا اور آپ کے لئے آپ کے ساتھیوں کو چن لیا۔ ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی کا وزیر بنایا حسن بصری تابعی (م ۱۱۰ھ) نے ایک بار اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا: لقد ادركت سبعين بدرياً أكثر لباسهم الصوف ذلور أیتمو هم لقلتم مجانين ودوراً واخیارکم فقالوا ما لهولاء من خلاق - ولوراً فاشر اکرکم فقالوا ما يومن هولاء بيوم الحساب عن عبد الله بن عمر، قال، اولئك اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا خير هذه الامة ابرها قلو باو اعمقها علما و اقلها تكلفا (ابو نعیم، حلیة الاولیاء جلد ا، صفر ۳۰۵) عن عبد الله بن مسعود قال، انتم أكثر صياما و اكثر صلاة واكثر اجتها دا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وهم كانوا خيرا منكم - قالوا ألم يا ابا عبد الرحمن - قال هم كانوا ازهد في الدنيا ہے ۔ ے بدری صحابیوں کو دیکھا ہے ، ان کا لباس نیا نہ تو صرف کا ہوتا تھا۔ اگر تم ان کو دیکھتے تو تم کہتے یہ پاگل ہیں۔ اور اگر وہ تمہارے اچھوں کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا دین میں کوئی حصہ نہیں ۔ اور اگر وہ تمہارے بروں کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ حساب کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ۔ عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں ۔ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے بہترین لوگ تھے ۔ وہ بہت اچھے دل والے ، بہت گہرے علم والے اور تکلفات سے دور تھے ۔ حضرت ابن مسعود نے اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا، تم نماز روزہ میں اصحاب رسول سے زیادہ ہو۔ ان سے زیادہ مجاہدہ کرتے ہو۔ مگر وہ تم سے بہت بہتر تھے ۔ لوگوں نے پوچھا کیوں ۔ انھوں نے جواب دیا، وہ دنیا سے بہت زیادہ بے رغبت تھے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues