Al-Risala · March 1978 · page 12

تہذیب سیرة ابن هشام ، جزء ثانی، صفحه ۵۵۱

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲

جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچنا :

۱ھ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اکثر مسلمان ہل گئے۔ عمر فاروق کا یہ حال ہوا کہ مدینہ کی مسجد میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ، اس کی گردن مار دوں گا۔ ابو بکر صدیق رسول کی محبت میں تمام لوگوں سے بڑھے ہوئے تھے۔ ہجرت کے موقع پر جب آپ مکہ میں اچانک ابو بکر صدیق کے گھر آئے اور فرمایا کہ مجھے مکہ سے چلے جانے کا حکم ہو گیا ہے تو ابو بکر صدیق نے پہلی بات یہ فرمائی: "کیا مجھے بھی ساتھ نصیب ہوگا ؟ " آپ نے فرمایا ہاں۔ یہ سفر بظاہر موت کا سفر تھا۔ مگر اس نازک موقع پر رسول کی معیت ان کو اتنی محبوب تھی کہ خوشی کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ عشق کی حد تک رسول سے عقیدت ہونے کے باوجود جب آپ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ، تو آپ مسجد میں آئے جس سے متصل رسول اللہ کا حجرہ تھا۔ یہاں لوگ حیران و پریشان تھے۔ عمر فاروق نے سرے سے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ رسول اللہ کی وفات ہو سکتی ہے۔ مگر ابو بکر صدیق نے اپنی روح کو عالم بالا سے اس حد تک مطابق کر لیا تھا کہ آپ کو اصل حقیقت سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے آپ کے چہرے سے چادر اٹھا کر آپ کو چوما اور پھر فرمایا : بابي انت وامی ، اما الموتۃ التی كتب اللہ علیک فقد ذقتھا، ثم لن تصیبک بعدها موتہ ابد از جوموت اللہ نے آپ کے لئے مقدر کی تھی وہ آپ نے چکھ لی۔ اس کے بعد اب کوئی موت آپ کو آنے والی نہیں! اس کے بعد آپ باہر مجمع میں تشریف لائے اور تقریر کرتے ہوئے کہا :- ایھا الناس، انہ من کان یعبد محمد فان لوگوں! جو شخص محمد کو پوجتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا، اور محمد اتد مات ، ومن كان يعبد الله فان جو شخص خدا کو پوجتا تھا تو خدا زندہ ہے، اس کو موت الله حي لا يموت آنے والی نہیں۔

تہذیب سیرة ابن هشام ، جزء ثانی، صفحه ۵۵۱

یہ عبدیت کا وہ مقام ہے جہاں آدمی نفرت اور محبت کی نفسیات سے الگ ہو کر حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے۔ ایسے کامل انسان صدر اول میں بھی تھوڑے تھے، اور بعد کے زمانہ میں تو شاید ایسے لوگ پیدا ہی نہیں ہوئے ۔ الا ماشاء الله اصحاب رسول نے اسی عبدیت کا مظاہرہ جمع قرآن کے سلسلے میں کیا۔ ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں جب زید بن ثابت انصاری نے قرآن کو مدون کیا تو ان کے نسخہ کے بعد بہت سے اجزا جمع کئے جن پر قرآن کی آیتیں اور سورتیں لکھی ہوئی تھیں۔ تمام اصحاب کے مشورے سے اس ذخیرہ کو جلا دیا گیا۔ اسی طرح عثمان غنی کی خلافت کے زمانہ میں جب قرآن کے نسخے جمع کئے گئے اور چند مستند نسخے تیار کئے گئے تو بہت سے نسخے پٹ گئے جو مختلف لوگوں کے لکھے ہوئے تھے۔ اس بار بھی اصحاب رسول کے متفقہ مشورہ کے مطابق سرکاری نسخوں کے علاوہ تمام نسخے جلا دیئے گئے۔ " قرآن" کو عظیم تر دینی مصلحت کی خاطر جلانا ، ایک ایسی جرأت کا کام ہے جس کا مظاہرہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page