Al-Risala · March 1978 · page 13

تہذیب سیرة ابن هشام ، جزء ثانی، صفحه ۵۵۱

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳

صرف ایسے لوگ کر سکتے تھے جو حقیقت کو اس بلند مقام سے دیکھ رہے ہوں جہاں ہر دوسری چیز حذف ہو جاتی ہے اور حقیقت اعلیٰ کے سوا کوئی چیز مرکز توجہ بننے کے لئے باقی نہیں رہتی۔

اختلاف کے باوجود عدل پر قائم رہنا:

عمر فاروق اپنے وقت کی ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ آپ نے ایک بار تقریر کے دوران کہا: اگر تم لوگ میرے اندر کوئی غلطی دیکھو تو کیا کرو گے۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا:

خدا کی قسم اگر ہم تمھارے اندر کوئی ٹیڑھ دیکھیں تو ہم اس کو تلوار سے سیدھا کر دیں گے۔

عمر فاروق نے اس "گستاخی" پر آدمی کو تنبیہ کرنے کے بجائے فرمایا الحمد للہ ان جعل فی المسلمین من یقوم اعوجاج عمر بسیفہ (خدا کا شکر ہے کہ اس نے مسلمانوں میں ایسے لوگ بنائے جو عمر کی ٹیڑ ھ کو تلوار سے سیدھا کر دیں گے) عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ عیینۃ بن حصن مدینہ آئے اور عمر فاروق سے ملے۔ انھوں نے کہا: اے خطاب کے بیٹے، خدا کی قسم تم نہ ہم کو کچھ دیتے ہو، هی یا ابن الخطاب، فو الله ما تعطینا الجزل ولا نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو۔

عمر فاروق یہ سن کر غصہ میں آگئے اور اٹھے کہ آدمی کو ماریں۔ یہ دیکھ کر حُر بن قیس نے کہا: اے امیر المومنین "اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ معاف کرو اور جاہلوں سے درگزر کرو اور یقیناً یہ ایک جاہل آدمی ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں:

خدا کی قسم قرآن کی آیت سننے کے بعد عمر نے مطلق تجاوز نہیں و الله ما جاوزها، حین تلاها عليه، وكان کیا، وہ خداکی کتاب پر بہت زیادہ رکھنے والے آدمی تھے۔

غزوہ ذات السلاسل (8ھ) میں اولاً عمرو بن العاص ۳۰۰ کے لشکر کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف روانہ کئے گئے ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن الجراح کو دو سو مہاجرین وانصار کے ساتھ روانہ کیا اور ان کو جھنڈا بھی عطا فرمایا۔ رخصت کرتے ہوئے آپ نے ہدایت فرمائی کہ تم اور عمرو بن العاص دونوں مل کر کام کرنا ، اختلاف مت کرنا ( اذا قدمت علی صاحبک فتطادعا ولا تختلفا)

جب وہ عمرو بن العاص کے پاس پہنچے تو ابو عبیدہ بن الجراح نے چاہا کہ لوگوں کی امامت کریں۔ عمرو بن العاص نے کہا کہ آپ بطور مدد کے بھیجے گئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ آپ میری امامت کریں جب کہ میں امیر ہوں۔ ابو عبیدہ کے دستے میں مہاجریں ابو بكر و عمر جیسے لوگ تھے ، کہا کہ عمرو بن العاص اپنے دستے کے امیر ہیں اور ابو عبیدہ اپنے دستہ کے ۔ مگر عمرو بن العاص نے اس تقسیم سے اتفاق نہیں کیا اور کہا تم لوگ میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہو۔ اصل قائد میں ہوں (انما انتم امددت بحکم فانا القائد ابابو عبیدہ بن الجراح نے اپنا حق واپس لے لیا اور کہا: رسول اللہ نے مجھ کو جو

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page