خدائی اور بندگی کی دریافت
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۱
محض روحانی چیزیں ۔ وہ زندگی بھی دنیا ہی کی ایک زندگی ہوگی ۔ دونوں اسی آرام اور تکلیف کے زیاوہ کامل مقامات ہیں جن کا ایک ابتدائی نمونہ ہم کو آج کی دنیا میں دکھائی دے رہا ہے۔ قرآن میں جنت کے لذیذ پھلوں کو دنیا کے پھلوں کے ہم شکل بتایا گیا ہے (بقرہ - ۲۵) ۔ اسی طرح جہنم کی زندگی کی تشبیہ اس شخص کی زندگی سے دی گئی ہے جس کی زندگی کا سہارا ایک باغ ہو اور وہ اس کے بڑھاپے کے وقت جل کر تباہ ہو جائے (بقرہ - ۲۶۶) موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص اپنی عمر کے ابتدائی مرحلہ میں اپنے اندر تعمیری اہلیت پیدا کرتا ہے، وہ بعد کو زندگی میں اس کی قیمت پاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے ابتدائی اوقات کو کھیل تماشوں میں گنوا دیتا ہے، وہ بعد کو اس حادثہ سے دوچار ہوتا ہے کہ دنیا کے مواقع سے اپنا حصہ وصول کرنے کی استعداد اس کے اندر نہیں ہوتی ۔ ٹھیک یہی حال زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت کا ہے :
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّىهَا آخرت میں وہ شخص کامیاب رہے گا جس نے اپنے جی کو شمس - ۱۰ سنوارا، اور وہ شخص نامراد ہوگا جس نے اس کو بگاڑا ۔
دنیا میں عمل کے دوران ہر آدمی اپنے آپ کو کسی نہ کسی ڈھنگ سے تیار کر رہا ہے۔ کچھ لوگ دہ ہیں جو حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کا طریقہ اپناتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے اندر ایک ایسی شخصیت تعمیر کر رہے ہیں جو ایسے ماحول میں خوب ترقی کرے جہاں اخلاقی شعور ہو، حق پرستی ہو، احساس ذمہ داری ہو، ظواہر کے مقابلہ میں جواہر کی قدر ہو، سطحی باتوں کے بجائے اعلیٰ حقائق کی اہمیت ہو، خود غرضی کے بجائے اصول پسندی آدمی کی ترقی کا زینہ بنتا ہو۔ عصبیت کے بجائے حقیقت کی بنیادوں پر فیصلے ہوتے ہوں ، لفظی جدال کے بجائے علمی استدلال اپنے اندر وزن رکھتا ہو۔ ایسے لوگ ممکن ہے دنیا کے اندر ناکام ہو جائیں کیونکہ یہاں انسانی اقتدار اکثر فساد برپا کئے ہوئے ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس قسم کی صلاحیت والے لوگ اس دنیا میں بے جگہ ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ ان کو ناگزیر معاش حاصل کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے، مگر جیسے ہی یہ زمین و آسمان بدلے جائیں گے (ابراہیم - ۴۸) اور براہ راست خدائی اقتدار کے تحت معیاری دنیا کی تشکیل ہوگی، یہی لوگ دنیا کے سردار بن جائیں گے۔ جو صلاحیتیں انھوں نے پچھلے پر مشقت حالات میں پیدا کی تھیں، وہی اس نئی دنیا میں عزت اور آرام کے مواقع پر قبضہ کرنے کی یقینی ضمانت ہوں گی۔
اس کے برعکس جس نے خدا کے بتائے ہوئے راستہ کو نہیں اپنایا، جس کا حال یہ رہا کہ وہ برتر تقاضوں کے بجائےوقتی محرکات کے پیچھے دوڑتا رہا، جس نے اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کی کہ ابن الوقتی، جوڑ توڑ، خوشامد، سطحیت ، استحصال، عصبیت اور مفادات کی پرستش کے ذریعہ اپنا کام بنائے، جس نے اس فن میں مہارت حاصل کی کہ وہ اپنی غلطی اور بے ہودگی کو خوب صورت لفظوں میں چھپا سکتا ہے، ایسا شخص دنیا میں ہو سکتا ہے خوب نمایاں ہو جائے، کیونکہ یہاں اکثر اوقات ایسا ماحول چھایا رہتا ہے جس میں اس قسم کی صلاحیتوں کو بہت جلد اپنی قیمت مل جاتی ہے۔ مگر جب وہ آخرت کے عالم میں پہنچے گا تو یکایک وہ محسوس کرے گا کہ یہاں اس کے لئے مواقع حیات بالکل ختم ہو گئے ہیں۔ یہاں ان صلاحیتوں کی کوئی قیمت نہیں جو اس نے دنیا میں اپنے اندر پیدا کی تھی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues