Al-Risala · January 1978 · page 10

خدائی اور بندگی کی دریافت

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰

عجز کا یہ مقام دراصل انسانیت کی پہچان کا مقام ہے۔ جب آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اس عظیم کائنات میں اب تک وہ بے جگہ تھا۔ اب اس نے اپنی جگہ پالی۔ وہ وہاں پہنچ گیا جہاں دراصل اس کو ہونا چاہئے۔ آخرت پسندانہ ذہن:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کا جو تصور دیا ہے، وہ آپ کے لفظوں میں مختصر طور پر یہ ہے: الدنیا مزرعة الآخرة غیر اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی دنیا ہی کو اپنی کھیتی، بالفاظ دیگر اپنی کوششوں کا حاصل پانے کی جگہ سمجھتا ہو۔ اس کی سرگرمیوں کا رخ موجودہ دنیا کی طرف ہو جانے۔ وہ اپنے دنیوی مستقبل کی تعمیر میں لگا ہوا ہو۔ اس کو اپنے مادی مفادات سے دل چسپی ہو۔ وہ انھیں چیزوں کے لئے متحرک ہوتا ہو جس میں اس کے دنیوی معاملات درست ہوتے ہوں۔ جس میں اس کی شخصیت چمکتی ہو۔ جس میں اس کی ”انا“ کو تسکین ملتی ہو۔

اس کے برعکس اسلامی زندگی آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) ہوتی ہے۔ مومن کی دلچسپیوں کا مرکز وہ دائمی زندگی ہوتی ہے جو مرنے کے بعد سامنے آنے والی ہے۔ وہ ہمیشہ اخروی مستقبل کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کو خدا کے یہاں سرخرو ہونے کا شوق رہتا ہے نہ کہ دنیا میں با عزت زندگی بنانے کا۔ اس کی توجہ، اس کی تمنائیں، اس کی سرگرمیاں، سب آخرت کے گھر کو بنانے کی طرف لگی رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ غیر مومن دنیا میں زندگی گزارتا ہے اور مومن آخرت میں۔ غیر مومن مرنے کے بعد آخرت کے عالم کو جائے گا۔ اور مومن دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے عالم میں پہنچ جاتا ہے۔

میڈیکل سائنس کا ایک طالب علم اپنی عمر کے ابتدائی حصہ میں تعلیم و تربیت کے ایک نظام میں داخل ہو کر اپنے آپ کو تیار کرتا ہے تاکہ اپنی عمر کے بقیہ حصہ میں کامیاب ڈاکٹر بن کر با عزت زندگی گزار سکے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں خدا پرستانہ زندگی اختیار کر کے ہمیں اپنے اندر وہ "انسان" تعمیر کرنا ہے جو موت کے بعد آنے والے مرحلہ حیات میں عمدہ زندگی پانے کے قابل ثابت ہو:

مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ تم میں سے جو کوئی اچھا کام کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، اور مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً (نحل - ۹۷) وہ ایمان والا ہو، تو ہم اس کو چلائیں گے اچھا جینا۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے غلط روش اختیار کی ۔ وہ آخرت میں اپنے آپ کو ایک پر عذاب زندگی میں گھرا ہوا پائیں گے جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے پاس نہ ہوگی:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً اور جس نے میری یاد دہانی سے منہ پھیرا تو اس کو ملے گی طه - ۱۲۴ ایک تنگ گزران ۔

آخرت کی انھیں دونوں زندگیوں کو جنت اور جہنم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جنت اور جہنم نہ کوئی طلسماتی چیزیں ہیں اور نہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page