العبقريات الاسلامیہ، صفحه ، ۳۹۷
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷
ایک شخص یہاں تک یقین رکھ سکتا تھا کہ وہ اس کے معاملہ پر اپنا معاملہ نہیں کرے گا (لا یبیع بعضکم علی بیع بعض- مسلم) اگر کوئی ایسی بات سامنے آئے جس کی بابت وہ علم و مطالعہ نہ رکھتا ہو، تو وہ صاف طریقہ سے کہہ دے گا کہ میں نہیں جانتا (من لم یعلم فلیقل اللہ اعلم، بخاری) ـــــــــ مادی کائنات "طوعاً و کرهاً" خدا کے منصوبہ کے مطابق بنی ہوئی ہے۔ اصحاب رسول نے اپنی مرضی سے اپنے آپ کو خدائی منصوبہ کے مطابق بنالیا تھا۔ رضی اللہ عنہم ورضواعنہ (یشہ)
اصحاب رسول کا یہی قابل پیشین گوئی کردار ان کو دوسرے انسانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ایک آدمی نفس و شیطان کے قبضہ میں ہو تو مشکلی طور پر یہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی معاملہ میں وہ کس قسم کا مظاہرہ کرے گا۔ مگر جب آدمی اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں خدا کا بندہ بنا لے تو وہ اسی طرح قابل پیشین گوئی بن جاتا ہے جس طرح خدا کی بقیہ کائنات ۔ موجودہ زمانہ میں بعض مشینی معاشروں نے ٹیکنکل پہلو سے اپنے کو قابل پیشین گوئی بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایک ہندوستانی سیاح جاپان کی ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اسٹیشنوں کے نام صرف جاپانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں۔ جب کہ جاپانی ریلوے اپنا ٹائم ٹیبل انگریزی میں بھی فراہم کرتی ہے۔ ہندوستانی سیاح نے اپنے ایک جاپانی ہم سفر سے شکایت کی کہ آپ لوگ اسٹیشنوں کے بورڈ پر صرف جاپانی زبان میں نام لکھتے ہیں، میرے جیسا آدمی کیسے جانے کہ اس کا مطلوبہ اسٹیشن آگیا۔ "اس کا حل بہت آسان ہے " جاپانی مسافر نے کہا، " آپ اپنی گھڑی کو صحیح رکھئے اور انگریزی ٹائم ٹیبل، جو آپ کے پاس ہے، اس میں دیکھ لیجئے کہ آپ کے مطلوبہ اسٹیشن پر ٹرین کے پہنچنے کا وقت کیا ہے۔ آپ کی گھڑی کی سوئی جب مقررہ وقت پر پہنچے گی تو آپ کی گاڑی اسی اسٹیشن پر کھڑی ہوگی "۔ منصوبہ اور عمل در آمد کے درمیان یہ مطابقت جو بعض مشینی معاشروں نے ٹیکنکل سطح پر حاصل کی ہے، یہی انسان سے شرعی اور اخلاقی اعتبار سے مطلوب ہے۔ اصحاب رسول، انسانی تاریخ میں، اس معیار کا سب سے کامیاب نمونہ تھے۔ ان کے بارے میں پیشگی طور پر اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ کسی معاملہ میں ان کا رویہ کیا ہوگا۔ اور اگر بشری کمزوری یا بھول چوک سے کبھی ان کے عقیدہ اور عمل میں فرق آتا تو یاد دہانی کے بعد فوراً وہ اس کی اصلاح کر لیتے تھے۔ ذہب بلال الى عمر مستاذناً فقال له الخادم إنه بلال ایک روز عمر فاروق کے یہاں ملاقات کے لئے گئے۔ خادم نائم - فسأله كيف تجد دین عمر - قال : خير الناس 23| نے بتایا کہ وہ سورہے ہیں۔ خادم سے پوچھا، تم لوگ إلا انه اذا غضب فهو مرعظيم - قال بلال : لو كنت 25| عمر کو کیسا پاتے ہو۔ خادم نے جواب دیا، وہ بہترین انسان عنامه اذا غضب تر أنت عليه القرآن حتى يذهب 27| ہیں۔ مگر جب غصہ میں آجائیں تو ان کا غصہ بڑا سخت ہوتا ہے۔ غضبه 29| بلال نے کہا: اگر میں ان کے غصہ کے وقت ہوتا تو میں ان 31| کے سامنے قرآن پڑھتا۔ اس کے بعد ان کا غصہ ختم ہو جاتا۔
العبقريات الاسلامیہ، صفحه ، ۳۹۷
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues