Al-Risala · March 1978 · page 16

قابل پیشین گوئی کردار

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۱۶

ساری کائنات چل رہی ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ساری کائنات مکمل طور پر قوانین فطرت کے مطابق ہے۔ یہ مطابقت اتنی زیادہ ہے کہ کائنات میں ہونے والے واقعات کی نہایت صحت کے ساتھ پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ جب ہم قوانین فطرت کو جان لیں تو ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں حالت میں فلاں قسم کا نتیجہ برآمد ہو گا ۔ پانی کو آگ پر رکھنے سے نہ خلائی کشتی کو سیارہ کی طرف بھیجنے تک ساری سرگرمیاں اسی لئے ہیں کہ ہم کو یقین ہے کہ کائنات کی ہر چیز مکمل طور پر اپنے قانون کی پیروی کرتی ہے، وہ اس سے منحرف نہیں ہوتی۔ فکر وعمل کی یہی مطابقت انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مادی کائنات کے لئے قوانین طبیعی مقرر کئے ہیں اور ساری کائنات کامل یک سوئی کے ساتھ اس کی پیروی کر رہی ہے۔ اسی طرح اس نے انسان کے لئے قوانین شرعی مقرر کئے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان اس سے ہم آہنگ ہو کر اپنی زندگی گزارے ۔ زمین و آسمان کو خدانے بندہ اپنے مقررہ قوانین کا تابع بنا دیا ہے، انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خود اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو ان قوانین کے مطابق بنائے۔ طبیعی دنیا، جس طرح قوانین قدرت کے تحت کامل طور پر قابل پیشین گوئی ( PREDICTABLE ) ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے کہ، اخلاقی اعتبار سے، انسان قابل پیشین گوئی بن جائے ۔ مومن اپنے ذاتی ارادہ کو خدا کے ارادہ کے تابع کر دیتا ہے ، اس لئے وہ قابل پیشین گوئی ہوتا ہے۔ مومن سے معاملہ کرتے وقت ایک شخص پیشگی طور پر اندازہ کر سکتا ہے کہ اس کو کس قسم کے رد عمل سے سابقہ پیش آئے گا۔

حسن بصری تابعی نے نفاق (خلاف ایمان حالت ) کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے۔

من النفاق اختلاف القلب واللسان و اختلاف نفاق یہ ہے کہ قلب اور زبان میں فرق ہو، چپھے اور کھلے السر و العلانية و اختلاف الدخول والخرج میں فرق ہو، داخل ہونے اور خارج ہونے میں فرق ہو۔ جامع العلوم والحکم، صفحه: ۷۳ اصحاب رسول کے ایمان نے اس قسم کے فرق کو ان کی زندگیوں سے مٹا دیا تھا۔ جس طرح مشین کے رہنما پرچے کو دیکھ کر ایک آدمی سمجھ لیتا ہے کہ وہ کس طرح عمل کرے گی، اسی طرح قرآن وسنت کو دیکھ کر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ اصحاب رسول کا رد عمل کسی معاملہ میں کیا ہو گا ۔ ــــ وہ جانتا تھا کہ ایک صحابی سے جب عہد و پیمان کا کوئی معاملہ ہو گا تو وہ لازماً اس کو پورا کرے گا (بقرہ ۱۷۷) ۔ کوئی مالی لین دین ہو گا تو اس کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی کی جائے گی (مائدہ ۱) ۔ اگر کسی وجہ سے اختلاف پیدا ہو جائے تو عدل کے خلاف رویہ کا اس کو سامنا کرنا نہیں ہو گا (مائدہ ۸) وہ حاکم ہو یا ماتحت، دونوں حالتوں میں وہ انھیں حدود پر قائم رہے گا جو اس کے رب نے اس کے لئے مقرر کر دیئے ہیں (توبہ 112) ۔ اگر وہ کسی کے اوپر غلبہ پالے تو وہ ظلم اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کرے گا (من کظم غیظا وہو قادر علی ان ينقذ کا ۔ ۔ ۔ ابو داؤد، ترمذی) اس کی غلطی کی گرفت کی جائے گی تو اس کو عزت کا سوال بنا کر وہ اپنی غلطی سے پشیمان نہیں رہے گا بلکہ صاف لفظوں میں اعتراف کرے گا (بقرہ ۳۰۹) ، اس سے کسی بات کو منوانے کے لئے طاقت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایک لفظی دلیل اس سے کوئی صحیح بات منوانے کے لئے کافی ہوگی (محمد ﷺ ، حتی کہ صحابی کے بارے میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page