Al-Risala · March 1978 · page 30

ما عمل بعد هذه 8

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰

بعد آئیں گے، اتنے میں ایک صاحب سامنے سے گزرے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا : ھذا ابو منڈ علی الھدی (یہ شخص اس دن حق پر ہوگا) میں اٹھ کر ان کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ وہ عثمان بن عفان ہیں۔ (ترمدی) حضرت عثمان نے اپنے مال سے مشکل وقتوں میں اتنی زیادہ اسلام کی مدد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار ان کے لئے دعا فرمائی۔ ایک بار آپ نے فرمایا:

اللهم انی قد رضيت عن عثمان فارض عنه ، اللهم انی اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔ قد رضیت عن عثمان فارض عنه اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔

ایک بار حضرت عثمان کے ایثار و قربانی سے آپ اتنا خوش ہوئے کہ دعا کا یہ کلمہ دن بھر آپ کی زبان سے نکلتا رہا۔ تاہم یہی عثمان بن عفان تھے جن کے خلاف ان کی خلافت کے بعد کے سالوں میں سارے ممالک اسلامی میں شورش برپا ہو گئی۔ اس شورش کے پیدا کرنے میں متعدد وخلاص اور مقدس لوگ بھی شریک تھے۔ یہ شورش اتنی بڑھی کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوائی مختلف ملکوں سے جمع ہو کر مدینہ میں گھس گئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔ آپ کے گھر میں پانی کا داخلہ روک دیا۔ آپ کے لئے مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھنا نا ممکن بنا دیا ۔ جب شدت بہت بڑھی تو آپ اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور بلوائیوں کو خطاب کیا :

عن ثمامة بن حزن القشيرى قال، شهدت الدار 2 - میں حزن القشیری کہتے ہیں۔ عثمان بن عفان کے محاصرہ حين أشرف عليهم عثمان فقال : أنشدكم الله والاسلام کے وقت میں ان کے گھر کے پاس موجود تھا۔ وہ مکان کے اوپر هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم چڑھے اور لوگوں سے کہا۔ میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم المدينة وليس بها ماء لا يستعذب غير بئر رومة. دلاتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فقال من يشرى بئر رومة يجعل دلوه مع دلاء کرکے مدینہ آئے اور یہاں صرف ایک یہودی کا کنواں بئر رومہ تھا المسلمين بخير له منها في الجنة - فاشتريتها من جس سے میٹھا پانی لیا جا سکے وہ بہت مہنگی قیمت پر فروخت کرتا صلب مالى، وأنتم اليوم تمنعوني أن أشرب منها۔ تھا) رسول اللہ نے کہا ۔ کون بئر رومہ کو خریدتا ہے کہ وہ بھی اس فقالوا اللهم نعم - فقال انشدكم الله والاسلام هل سے پانی لے اور مسلمان بھی پانی لیں، جنت میں اس کو اس سے بہتر تعلمون ان المسجد ضاق بها عله فقال رسول الله ٹگا ملیں گے (۲۵ ہزار درہم) کے عوض اس کو خریدا۔ اور تم صلى الله عليه وسلم من يشترى بقعة آل فلان مجھ کو اس سے پانی پینے سے روکتے ہو۔ لوگوں نے جواب دیا ۔ فلیا فيزيدها في المسجد بخير له منها في الجنة ہاں۔ پھر عثمان بن عفان نے کہا ۔ میں تم کو قسم دلاتا ہوں اللہ کی فاشتريتها من صلب مالي، فانتم اليوم تمنعوني اور اسلام کی۔ کیا تم جانتے ہو کہ مسجد نبوی تنگ پڑ گئی تو رسول اللہ ان اصلی فيها ركعتين، فقالوا اللهم نعم - - قال الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون فلاں زمین کو خرید کر مسجد میں اكبر، اشهد داو رب الكعبة ، انى شهيد، انلا ثا۔ اضافہ کر تا ہے، جنت میں اس کو اس سے بہتر ملے گا۔ میں نے اس (ترمدی - نسائی ، دار قطنی) کو اپنے مال سے خریدا۔ اور تم مجھ کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page