Al-Risala · March 1978 · page 25

مذہبی تعلیم کی سائنسی تصدیق

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵

مذہبی تعلیم کی سائنسی تصدیق

تاریخ کے ہر دور میں عورتیں، مردوں کے ماتحت رہی ہیں۔ حتیٰ کہ آج بھی مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ صورتِ حال مکمل طور پر موجود ہے۔ نام نہاد آزادیٔ نسواں تحریک کے مغربی علم بردار اب تک یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ کوئی فطری تقسیم نہیں ہے، بلکہ سماجی حالات (SOCIAL CONDITIONING) نے مصنوعی طور پر یہ فرق پیدا کر رکھا ہے۔ تاہم حال میں اس سلسلے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

امریکہ کے پروفیسر اسٹیسن گولڈ برگ نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے: "نظامِ سرداری کی ناگریزیت"۔ مصنف کہتے ہیں کہ معاشرہ میں عورت مرد کے فرق کی وجہ حقیقتاً کوئی سماجی دباؤ نہیں ہے، بلکہ دونوں جنسوں میں بنیادی فطری فرق اس کا سبب ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد پروفیسر کو امریکہ کی انتہا پسند خواتین کی طرف سے نہایت سخت خطابات ملے ہیں مثلاً ظالم خنزیر" اور "مردسادی" وغیرہ۔ سادیت، کونٹ دی سادے (۱۸۱۴-۱۷۴۰) کی طرف منسوب ہے۔ اس سے مراد ایک قسم کی جنسی کجروی ہوتی ہے جس کے مبتلا کو اس میں لطف آتا ہے کہ وہ معشوق کو جسمانی تکلیف دے۔ "مرد سادی" کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مرد جو عورت کے حق میں ظالم ہو کتاب کی اشاعت کے بعد پروفیسر گولڈ برگ سے جب "ڈیلی ایکسپریس" کا نمائندہ ملا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: "مساوات نسواں کی علم بردار خواتین مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ تمام انسانی معاشروں میں مرد کا عمومی غلبہ (MALE DOMINANCE) صرف سماجی حالات کی وجہ سے نہیں ہو سکتا۔ "

اس فرق کی زیادہ حقیقت پسندانہ توجیہہ یہ ہے کہ اس کو مردانہ ہارمون (MALE HORMONE)

کا نتیجہ قرار دیا جائے جو کہ ابتدائی جراثومہ حیات پر اس وقت غالب آجاتے ہیں جب کہ وہ ابھی رحم مادر میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بچے ہمیشہ چھوٹی بچیوں سے زیادہ جارح ہوتے ہیں اور یہ فرق اس وقت ظاہر ہو جاتا ہے جب کہ ابھی وہ سماجی حالات کے زیر اثر آئے بھی نہ ہوں۔ مساوات نسواں کے علم برداروں کا مقدمہ، خالص علمی اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ مرد کا غلبہ سماجی حالات کی وجہ سے ہے نہ کہ پیدائشی خصوصیات کی وجہ سے، تو یقیناً کبھی نہ کبھی دنیا کے کسی خطہ میں ایسا معاشرہ ضرور رہتا جس میں عورتوں کو غلبہ حاصل ہوتا۔ جب کہ پوری معلوم تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ اشتراکی معاشرہ میں بھی ایسا نہیں ہے جو جنسی مساوات کا سب سے بڑا علم بردار ہے۔ روس کی وزراتی کابینہ میں ۲۳ طاقت ور وزراء شامل ہیں، مگر ان میں کوئی ایک بھی خاتون ممبر نہیں۔

علم الانسان کی ماہر خاتون ڈاکٹر مارگریٹ میڈ، جو خود بھی مساوات نسواں کی تحریک سے تعلق رکھتی ہیں، انھوں نے ساری عمر مختلف انسانی معاشروں کا مطالعہ کیا ہے، تاہم وہ لکھتی ہیں:

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page