مذہبی تعلیم کی سائنسی تصدیق
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶
ایسے تمام دعوے جن میں زور شور کے ساتھ ایسے معاشروں کا انکشاف کیا گیا ہے جہاں عورتوں کو غلبہ حاصل تھا، بالکل لغو ہیں۔ اس قسم کے عقیدہ کے لئے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ ہر دور میں مرد ہی امور عامہ کے قائد رہے ہیں۔ اور گھر کے اندر بھی اعلیٰ اختیار ہمیشہ یہیں کو حاصل رہا ہے"۔
پروفیسر گولڈ برگ کہتے ہیں، " اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد، عورتوں سے بہتر (BETTER) ہوتے ہیں۔ اس کا ہیں ۔ مرد کا دماغ اس سے مختلف طرز پر کام کرتا ہے جس طرح عورت کا دماغ کام کرتا ہے۔ یہ فرق چوہوں وغیرہ کے نر اور مادہ میں بہت واضح طور پر تجربہ کیا جا چکا ہے۔ کچھ عورتیں مستثنی ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ بہت معمولی اقلیت ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے مختلف ہیں، رحم مادر سے لے کر سوچنے کی صلاحیت تک۔ یہ فرق دونوں کی حیاتیاتی نوعیت کے فرق سے پیدا ہوتا ہے ۔ نہ کہ کسی قسم کے سماجی حالات سے ۔
ڈاکٹر کے. بی. جمال الدین (۱۹۸۱ء)
(DIFFERENT) مطلب صرف یہ ہے کہ مرد عورتوں سے مختلف (ڈیلی ایکسپریس ۲۴ جولائی ۱۹۶۶) شاعر کا اعتراف طرماح بن حکیم (م ۱۰۰ھ) اور کمیت بن زید اسدی دونوں ہم عصر شاعر تھے۔ دونوں کا نسب، وطن اور مذہب بالکل الگ الگ تھا۔ طرماح قحطانی شامی اور خارجی تھا. اس کے برعکس کمیت عدنانی کوفی اور شیعہ تھا جیسا کہ معلوم ہے خارجی حضرت علی کے دشمن تھے۔ خوارج کے چھ بڑے فرقے ہوئے ہیں، ازارقہ، نجمدات، صفر یہ، مجاردہ، اباضیہ ثعالبہ۔ یہ سب حضرت عثمان و حضرت علی سے براءت و بیزاری میں متفق ہیں اور اپنے اس عقیدے کو تمام عبادتوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ طرماح کا تعلق فرقہ ازارقہ سے تھا جو اتنا متشدد تھا کہ حضرت علی کو نعوذ باللہ کافر کہتا تھا اور آپ کے قاتل ابن ملجم کو برحق سمجھتا تھا۔ دوسری طرف کمیت شیعہ ہونے کی وجہ سے حضرت علی کی تعریف میں اتنا غلو کرتا تھا کہ آپ کو بشریت سے بلند مانتا تھا۔
اس شدید نظریاتی اختلاف کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے۔ کیت کہتا تھا ہم دونوں عوام سے بغض رکھنے میں متفق ہیں۔ “ ایک بار دونوں شاعر مخلد بن یزید مہلبی کے یہاں گئے‘ اس نے دونوں کو عزت سے بٹھایا اور شعر سنانے کے لئے کہا۔ طرماح نے بیٹھے بیٹھے سنانا شروع کیا۔ مخلد نے کہا، ہمیں کھڑے ہو کر سناؤ! طرماح نے کہا: ”ہرگز نہیں۔ شاعری کی قوت نہیں کہ میں کھڑا ہو جاؤں اور وہ مجھے ذلیل کرے “ مخلد غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا: تم کیت کے لئے جگہ خالی کر دو“ اب کیت آگے بڑھا اور کھڑے ہو کر اشعار سنانے شروع کئے ۔ مخلد بہت خوش ہوا۔ اور اس کو پچاس ہزار درہم انعام دیئے۔ جب دونوں باہر نکلے تو کیت نے آدھے درہم طرماح کو دیئے۔ اس نے کہا: ”اے ابو ضبیہ! تم خود دار ہو اور میں موقع پسند ہوں۔ اور وقت کے مطابق کام کرتا ہوں “
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues