Al-Risala · January 1978 · page 13

اپنے خول سے باہر آنا

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳

کہا گیا ہے۔ نفس مطمئن سے مراد پیچیدگیوں سے آزاد روح (COMPLEX-FREE SOUL) ہے۔ آدمی اس دنیا میں جو رویہ ظاہر کرتا ہے، وہ کچھ نفسیاتی پیچیدگیوں کے تحت ہوتا ہے۔ کچھ دنیوی کامرانی حاصل ہو جائے تو وہ اپنے کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ دنیوی محرومی لاحق ہو تو احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے کسی سے دل چسپی ہو تو آدمی کو اس کی ہر بات اچھی لگتی ہے۔ کسی سے ان بن ہو جائے تو اس کی ہر بات آدمی کو اچھی دکھائی دیتی ہے۔ جس سے کوئی امید وابستہ ہو، اس کے آگے آدمی جھکتا ہے۔ جس سے کسی نفع کی امید نہ ہو، اس سے بے نیازی برتتا ہے۔ جس محفل میں آدمی کی " اننا " کو تسکین ملے، وہاں وہ خوب اپنے جوہر دکھاتا ہے۔ جہاں انا کو تسکین ملنے والی نہ ہو، وہاں جانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا۔ یہ سب زیادہ تر لاشعور کے تحت ہوتا ہے۔ مختلف عوامل کے اثر سے آدمی کا جو ایک ذہن بن جاتا ہے، اس کے تحت وہ تمام کام کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے احساسات کے پرلے سے باہر آ کر خالص بے آمیز شکل میں رائے قائم نہیں کر پاتا۔ اس کا ہر رو یہ متاثر ذہن کے تحت نکلا ہوا رویہ ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً آزاد رویہ۔

ایمان لانا گویا اپنے آپ کو ہر قسم کے اضافی محرکات اور مصنوعی رجحانات سے اوپر اٹھانا ہے۔ جب آدمی حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو خدا کے حوالے کرتا ہے تو وہ نفسیاتی گرہوں سے آزاد انسان بن جاتا ہے۔ وہ خالص فطری حالت میں اشیاء کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے الگ ہو کر اپنا مشاہدہ کر لیتا ہے۔

یہ وہ مقام ہے جس کو قرآن میں نفس مطمئنہ کہا گیا ہے۔ یہ مقام کسی کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک وہ دنیوی علائق اور مادی محرکات سے اوپر نہ اٹھ جائے۔ حتی کہ وہ ان داعیات کو بھی دیکھنے لگے جو لاشعور کے تحت عمل کرتے ہیں اور عام حالات میں خود متعلقہ شخص کو بھی ان کی خبر نہیں ہوتی۔ جب تک ایسا نہ ہو، خدا کے ساتھ آدمی کا مطمئن نہیں ہو سکتا۔ خدا کی شان صمدیت ہے۔ وہ ہر قسم کی پیچیدگیوں سے ماورا ہے۔ وہ واقعات کو ان کی بے آمیز صورت میں دیکھتا ہے۔ اس لئے خدا کی معیت اسی بندے کو حاصل ہو سکتی ہے جو اپنے اندر اس اخلاق خداوند ی کو پیدا کرے۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنے لاشعور کی گرہوں میں پھنسا ہوا ہو، جو اپنی ذات کے مدار سے باہر نہ نکل سکے، وہ خدا کو نہیں پاسکتا، وہ " خدا کے ساتھ چلنے والا " نہیں بن سکتا۔

نفس مطمئن کے مقام پر پہنچنے کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو حدیث میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله مومن کی ہوشیاری سے بچو، کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔ جب آدمی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہو جائے تو وہ حالت فطری کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ مکمل طور پر بے آمیز رائے قائم کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ وہ محبت اور نفرت، خوف اور امید، عزت اور بے عزتی، فائدہ اور نقصان کے احساسات کے تحت نہیں سوچتا۔ وہ ان تمام محرکات سے اوپر اٹھ جاتا ہے جو آدمی کے گرد ہالہ بن کر اس کی عقل کو گھیر لیتے ہیں اور اس کو صحیح رائے تک پہنچنے نہیں دیتے۔ ایسا شخص معاملات میں مکمل طور پر غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ رائے قائم کرتا ہے۔ اس کی نگاہیں تمام مصنوعی دیواروں کو توڑ کر حقائق کو دیکھ لیتی ہیں۔ وہ واقعات کا مشاہدہ اس سطح سے کرنے لگتا ہے جہاں سے خدا کا ل اور ابدی شکل میں ان کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو اس مقام پر پہنچ جائے، اس کی رائے لازماً صحیح ہوگی۔ اور

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page