بناوٹی قصے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۴۰
سمندری قوانین اب بھی زمانہ کا فرق بنیاد یطور پر دی ہی ہیں جو قدیم نو آبادیاتی طاقتوں نے بنائے تھے قدیم زمانے میں سمندروں کی حد بندی کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ بحری طاقت وجود میں آنے کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ طے کیا گیا کہ کسی ملک کی سرحد سے تین میل تک کا سمندری پانی اس کا علاقائی پانی شمار ہو گا۔ تین میل کی حد اس سادہ سے حساب پر مقرر کی گئی تھی کہ ساحلی توپوں کی مار تین میل تک جاتی ہے۔ اس وقت سمندر زیادہ سے زیادہ کسی دشمن کے لئے آبی سڑک کا معنی رکھتی تھی۔ اس لیے سرحدی ریاستوں نے اتنے فاصلے کو کافی سمجھا جو جنگی جہازوں کے حملے سے انھیں محفوظ رکھے۔
موجودہ زمانہ میں سمندری ساحل نے نئی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ سمندر کے نیچے قیمتی معدنیات خصوصاً پٹرول کے ذخائر موجود ہیں۔ اس لئے اب ملکوں کو فکر ہوئی کہ اپنے ساحلی علاقوں میں اضافہ کریں۔ ایشیا اور افریقہ کے ممالک کی آزادی کے بعد سے مسلسل مسئلہ نظر ثانی کے لئے اٹھایا جارہا ہے۔ مئی ۱۹۶۷ء میں نیویارک میں ۱۰ اقوام کی کانفرنس اس مسئلہ پر ہوئی۔ ہندوستان اور دوسری زیر ترقی اقوام کی طرف سے یہ تجویز تھی کہ علاقائی منطقہ (TERRITORIAL ZONE) کو تین میل سے بڑھاکر بارہ میل کردیا جائے۔ اور اسی کے ساتھ ساحلی ریاستوں کی خشکی کی سرحد سے دو سو میل تک کے پانی کو اقتصادی منطقہ (ECONOMIC ZONE) قرار دیا جائے جس میں ان ریاستوں کو سمندری ذرائع کے خصوصی استعمال کا حق ہو۔ تاہم یہ تجویز نیویارک کانفرنس میں منظور نہ ہوسکی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues