اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۴
اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا
عن زید بن ارقم قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ زید بن ارقم سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وسلم من قال لا الہ الا اللہ مخلصا دخل الجنة فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ اخلاص کے ساتھ کہے وہ جنت قیل وما اخلا صھا قال ان تحجزہ عن محارم میں داخل ہوگا۔ پوچھا گیا کلمہ و اخلاص کیا ہے۔ فرمایا، وہ اللہ (رواہ الطبرانی فی الاوسط والکبیر) اس کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے روک دے۔ اس حدیث کی تشریح میں ایک بزرگ لکھتے ہیں :
اور یہ ظاہر ہے کہ جب حرام کاموں سے رک جائے گا اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگا تو اس کے سیدھا جنت میں جانے میں کیا ترد د ہے۔ لیکن اگر حرام کاموں سے نہ بھی رکے تب بھی اس کلمہ پاک کی یہ برکت تو بلا ترد د ہے کہ اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھگتنے کے بعد کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور داخل ہوگا۔ البتہ اگر خدا نخواستہ بد اعمالیوں کی بددلت اسلام کا ایمان ہی سے محروم ہو جائے تو دوسری بات ہے ۔ (۷۱)
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں یہ نقل کیا گیا کہ خوش خبری سنو اور دوسروں کو بھی بشارت سنا دو کہ جو شخص سچے دل سے لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اخلاص کے ساتھ تھوڑا سا عمل بھی بہت کچھ رنگ لاتا ہے، اس لئے اخلاص سے جو شخص کلمہ شہادت پڑھے اس کی ضرور مغفرت ہوگی، وہ ضرور جنت میں داخل ہو کر رہے گا۔ اس میں ذرا بھی تر دو نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے کچھ دنوں سزا بھگت کر داخل ہو لیکن ضروری نہیں۔ “ (۸۹)
اس عبارت پر خالص مسئلہ“ کی حیثیت سے اعتراض کرنا مشکل ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ محرمات سے رکنا اور محرمات سے نہ رکنا دونوں میں اگر ” بلا تر د د جنت کی خوش خبری دی جانے لگے تو اس سے کبھی صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا۔ یہود بھی تویہی کہتے تھے کہ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَة (ہم کو آگ نہیں چھوئے گی مگر چند دن) پھر اسی قسم کا عقیدہ اگر ہم بھی بنا لیں تو ہمارے یہاں اس سے مختلف ذہن کیوں پیدا ہو گا جو یہود کے یہاں پیدا ہوا ۔ اس قسم کے مسائل وضع کرنے والے شاید کتاب الہی کی اس آیت کو بھول گئے ہیں۔
لَيْسَ بِأَمَانِيكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ نہ تمہاری خوش گمانیوں سے کچھ ہو گا نہ اہل کتاب کی خوش گمانیوں يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ سے، جو برا کرے گا وہ ضرور اس کا بدلہ پائے گا۔
یہاں سرخ نشان اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی مدت خریداری ختم ہو چکی ہے براہ کرم اپنا سالانہ زر تعاون روانہ فرما کر شکریہ کا موقع دیں ۔ مینجر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues