Al-Risala · April 1978 · page 7

اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۷

مصنفین کا کنونشن وغیرہ ۔

یونیسکو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان، کتابوں کی پیداوار کے معاملہ میں دنیا کا ساتواں سب سے بڑا ملک ہے۔ انگریزی کتابوں کی تیاری میں امریکہ اور انگلستان کے بعد ساری دنیا میں اس کا تیسرا نمبر ہے۔ ملکی اعتبار سے چند زبانوں کے اعداد و شمار یہ ہیں: ۱۹۷۶ میں انگریزی کتابیں ۱۷۳۳۷ ہندی ۲۲۳۵ کنڑی ۱۲۴۱ مراٹھی ۱۲۹۰ بنگالی ۱۱۳۴ گجراتی ۷۴۰ تامل ۶۹۷ ملیالم ۴۵۰ اردو ۲۶۹ یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں۔ تاہم اصل تعداد غالباً اس سے زیادہ ہوگی۔ اندازہ ہے کہ ہندوستان میں ہر سال ۲۰ ہزار سے زیادہ کتابیں مختلف زبانوں میں چھپتی ہیں۔ ہندوستان دنیا کی آبادی کا پندرہ فی صد ہے، مگر ہندوستان کی مطبوعات دنیا بھر میں چھپنے والی کتابوں کا بمشکل چار فی صد ہوتی ہیں۔ یہ موضوع کے اعتبار سے ہندوستانی مطبوعات کی تقسیم یہ ہے:

ادبی کتابیں کل مطبوعات کا ۳۱ فی صد سیاسی اور معاشی کتابیں ۱۳ فی صد طب اور طبیعیاتی سائنس ۳ فی صد وہ کتابیں جن کی اشاعت (PRINT-RUN) زیادہ ہے وہ یا تو کورس کی کتابیں ہیں یا ناول۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایک ملین آبادی پر ہر سال تقریباً 50 کتابوں کا اوسط ہے جب کہ ہندوستان میں یہ اوسط صرف 30 ہے۔ دوسرے ملکوں میں فی شخص سالانہ 200 صفحات کا اوسط ہے اور ہندوستان میں صرف 33 صفحات کار۔

ہندوستان کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے ایک اسکیم چلائی جارہی ہے جس کا مقصد ملک کی علاقائی زبانوں میں یونیورسٹی سطح کی کتابیں شائع کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک تقریباً ساڑھے چار ہزار کتابیں شائع کی جاچکی ہیں۔ ان کتابوں کی قیمتیں " نہ نفع نہ نقصان " کے اصول پر رکھی جاتی ہیں۔

ایک ہندوستانی ڈائرکٹری میں گیارہ ہزار ملکی ناشرین کے نام و پتے چھاپے گئے ہیں۔ ان میں ڈھائی ہزار ہندی ناشرین ہیں۔ سترہ ہزار انگریزی، اور چودہ ہزار بنگالی۔ انگریزی زبان اب بھی ہندوستان میں غالب حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انگریزی ملک کے خوش حال طبقہ کی زبان ہے، اس لئے انگریزی زبان میں چھپنے والی کتابیں بہت جلد بازار میں اپنا مقام پالیتی ہیں۔ دوسری زبانوں کی مطبوعات زیادہ تر ادب، مذہب اور ثقافت سے متعلق ہوتی ہیں۔

ہندوستان میں تصنیف کے کام کو ترقی دینے کے لئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان میں انڈین کاپی رائٹ ایکٹ میں کی گئی حالیہ ترمیم اور مصنفین کے لئے نقد انعامات شامل ہیں۔

کبھی جاننا اس کا نام ہوتا ہے کہ آدمی یہ کہہ دے کہ " میں نہیں جانتا "۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page