میرالروایات
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶
مکمل نماز کو دہرائے۔ یہ نماز ظاہری طور پر مکمل ہونے کے باوجود خشوع سے خالی ہوگی۔ مگر نماز کی اسی شکل کو جب ایک خدا سے ڈرنے والا انسان دہراتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات کی آمیزش سے نماز خشوع کی نماز بن جاتی ہے۔ نماز انسان سے الگ ہو تو وہ الفاظ اور حرت کا ایک ڈھانچہ ہے۔ نماز انسان کے ساتھ ہو تو وہ ایک پر کیف عمل ہے۔
یہی حال علم کلام کا ہے۔ اگر آپ کاغذ کے اوپر اس کا خارجی مطالعہ کر رہے ہوں تو علم کلام ایک دفاعی علم نظر آئے گا جو اس لیے ہے کہ مخاطب کے عقلی سوالات کا جواب دے سکے۔ لیکن جب اسی کے ساتھ آپ متکلم کوبھی ملالیں، اس متکلم کو جو حقیقی داعی ہو اور خدا کے بندوں کو خدا کی راہ کی طرف لانے کے لیے بے قرار ہو، تو علم کلام صرف اتنی سی چیز نہیں رہتا جو کاغذ کے اوپر منطقی تعین میں نظر آتا ہے بلکہ اس کے اندر انسان کی سچی کی وہ تمام چیزیں شامل ہو جاتی ہیں جو داعیانہ جذبات کے تحت پیدا ہوئی ہیں۔ اپریل1967 ءکا واقعہ ہے۔ لکھنؤ میں ایک صاحب سے میری چند ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ ایک نہایت ذہین اور محنتی آدمی ہیں۔ انھوں نے فلسفہ میں ایم اے کیا ہے اور سات سال کی ریسرچ کے بعد برٹرینڈ رسل پر اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تیار کیا ہے۔ فلسفہ کا طالب علم یوں بھی عام طور پر مذہب کے بارے میں مشک ہو جاتا ہے اور برٹرینڈ رسل تو اس دور میں ملحدوں کا سردار ہے۔ پھر برٹرینڈ رسل پر ریسرچ کرنے والے کا عالم کیا ہوگا۔ فلسفہ کی تعلیم اور برٹرینڈرسل پر ریسرچ نے ڈاکٹر صاحب موصوف کو پورے معنوں میں علمی الحاد تک پہنچا دیا تھا۔
ان ملاقاتوں میں اتفاق سے چند علماء بھی شامل تھے۔ میں نے گفتگو کی تو ساری گفتگو میں کہیں خدا ، آخرت ، رسالت وغیرہ کا کوئی نام نہ تھا۔ "منھ بند کرنے" کی تکنیک بھی ساری گفتگو میں کہیں استعمال نہیں کی گئی تھی مگر گفتگو کے خاتمے پر انھوں نے تقریباً تمام باتوں کو مان لیا تھا۔
علما جو خاموش بیٹھے ہوئے ساری گفتگو کو حیرانی کے ساتھ سن رہے تھے، بعد کو
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues