میرالروایات
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۳۵
پورے معنوں میں ایک نیا اور مختلف انسان بن جاتا ہے ۔
یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ علم کلام اپنے حقیقی مفہوم کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں تعلیم بالقلم (علق) کہا گیا ہے۔ یعنی علم و فکر کی راہ سے کسی کے اندر نفوذ کرنے کی کوشش کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے کو اپنا طریقہ بتایا ہے : علم بالقلم علم الانسان ما لم یعلم خدا نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا۔
تمام انبیاء اپنی مخاطب قوموں کی ذہنی سطح اور زمانی حالات کے مطابق اسی ڈھنگ پر دین کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے۔
آخر میں ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری ہے، ورنہ علم کلام کی بحث ادھوری رہ جائے گی۔ اوپر میں نے علم کلام پر جو گفتگو کی ہے وہ دراصل اس پہلو سے ہے کہ ہم دیگر علوم سے الگ کر کے علم کلام کو سمجھنا چاہیں تو وہ کیا قرار پا تا ہے ۔ بلاشبہ علم کلام فی نفسہ ایک دفاعی علم ہے مگر اس کی یہ حیثیت صرف اس وقت تک ہے جبکہ اس کو متکلم کی ذات سے الگ کر کے خالص منطقی مفہوم میں دیکھا جا رہا ہو۔ جب کلام کے ساتھ متکلم کو ملالیا جائے تو بات بدل جاتی ہے۔ اس وقت علم کلام صرف ایک دفاعی علم نہیں رہتا بلکہ وہ سب کچھ بن جاتا ہے جو ایک صحیح اور مطلوب اسلامی دعوت کے اندر ہونا چاہیے ۔ اس کو میں ایک مثال سے واضح کروں گا۔ نماز کیا ہے۔ اگر آپ منطقی طور پر اس کا خارجی تعین کرنا چاہیں تو نماز نام ہے چند کلمات کو زبان سے دہرانے اور کچھ مقررہ حرکات انجام دینے کا۔ نماز کا خارجی تعین کسی بھی طرح اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ مگر معلوم بات ہے کہ نماز صرف اس کا نام نہیں ہے۔ نماز کا دوسرا لازمی جزو خشوع ہے۔ یہ جزو اتنا اہم ہے کہ اس کے بغیر کوئی نماز حقیقی نماز نہیں بنتی۔ (لاصلوة لمن لم يتخشع) نماز میں یہ دوسرا جزو کہاں سے آیا۔ یہ نماز کی اس شکل میں نہیں ہے جس کو ہم خارجی طور پر جان سکتے ہیں۔ بلکہ یہ وہ جزو ہے جو انسان کی نفسیات اس کے اندر شامل کرتی ہے ۔ ایک برقی انسان ایسا بنایا جاسکتا ہے جو فقہ کے سارے تعینات کے ساتھ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues