Al-Risala · April 1978 · page 48

ایک وضاحت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۴۸

میں بھٹک گیا اور کہا جانے لگا: من تمنطق تزندق (جو منطق میں مشغول ہوا وہ زندیق ہو گیا حالانکہ عین اسی وقت عقلی استدلال کی ایک اور زیادہ محکم بنیاد موجود تھی۔ یہ وہ استدلال تھا جو آیات کائنات میں غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن نے اسی طرز استدلال کی تعلیم دی تھی۔ علم کلام کی بنیاد اگر آیات کائنات پر رکھی جاتی تو علم کلام لوگوں کے لئے اضافہ ایمان کا سبب بنتا، بجائے ایک متکلم کو آخر وقت میں اس سے توبہ کرنے کی ضرورت پیش آئے۔

تصوف اور علم کلام کی علحدگی کی وجہ بھی یہی ہے کہ دونوں اپنے اصل سرے کو پانے میں ناکام رہے ۔ تصوف جس روحانیت کو عملیاتی ورزشوں میں ڈھونڈ رہا ہے اس کا راز خلق اللہ میں غور و فکر میں چھپا ہوا ہے۔ اسی طرح علم کلام جن دلائل کو خیالی قیاس آرائیوں میں تلاش کر رہا ہے وہ زیادہ بہتر طور پر آسمان و زمین کی نشانیوں میں موجود ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں ذکر و فکر (آل عمران) علم کلام کی بنیاد بھی ہے اور تصوف کی بنیاد بھی۔ اگر چہ دونوں اپنی اس حقیقی بنیاد سے محروم ہو کر دو الگ الگ دادیوں میں بھٹک رہے ہیں۔

یہ بات علم کلام کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے کہ کسی متکلم کا انتقال ہونے لگا تو اس نے اپنے سینے پر صحیح بخاری رکھ لی۔ یہ چیز علم کلام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ کسی بھی شرعی کام کے سلسلے میں پیش آسکتی ہے۔ یہ بالکل فطری بات ہے کہ جب آدمی کا آخر وقت آئے تو وہ ہر دوسری چیز کو چھوڑ کر براہ راست خدا سے لو لگانا چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص جنگی حالات میں اسلامی علاقے کی سرحد پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس اثنا میں اتفاق سے دشمن اس پر قابو پا لیتا ہے اور اس کا کام تمام کر دینا چاہتا ہے تو وہ فوراً سرحد کی رکھوالی کا کام چھوڑ کر دو رکعت نماز کی نیت باندھ لیتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کے پہرے دار کو حدیث میں المرابط فی سبیل اللہ کہا گیا ہے اور اس کو نہایت افضل کام بتایا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ شخص چاہتا ہے کہ موت کے فرشتے آئیں تو وہ ہتھیار بند نہ ہو بلکہ سجدے میں پڑا ہو۔ بعض متکلمین کے اس قسم کے واقعات کی نوعیت بس اتنی ہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page