سرسری مطالعہ سے جو رائے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۴۶
سرسری مطالعہ سے جو رائے
قائم کی جاتی ہے وہ تحقیق کے بعد اکثر غلط ثابت ہوتی ہے معاویہ بن ابی سفیان (۶۰۵ - ۶۸۰) ایک ممتاز صحابی تھے۔ ان کے بارے میں ایک صاحب لکھتے ہیں: " دیت کے معاملہ میں بھی حضرت معاویہ نے سنت کو بدل دیا۔ سنت یہ تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کے برابر ہوگی۔ مگر حضرت معاویہ نے اس کو نصف کر دیا ، اور باقی خود لینی شروع کر دی ۔ "
معاہد کی دیت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف اقوال مروی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا : ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے۔ (دية ذمي دية مسلم، السنن الكبرى للبيهقي، جلد 7 صفحه ۱۰۲) دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں : کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہوگی (عقل الكافر نصف دية المسلم، نیل الاوطار جلد ۸، صفحه (۶) اس بنا پر عہد صحابہ سے یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ معاہد کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہونی چاہئے ، اور کچھ لوگ مسلمان اور معاہد کی دیت میں فرق نہیں کرتے ۔ حضرت معاویہ نے دراصل دو رایوں میں سے ایک رائے کو ترجیح دی ہے نہ کہ خود کوئی نئی رائے پیدا کی ہے۔
" باقی خود لینی شروع کر دی " کے الزام کی حقیقت کا مقولہ ان لفظوں میں نقل کیا ہے : معاویہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے معاہد کی دیت کو کم کرکے نصف کر دیا اور نصف اپنے واسطے لے لی (ذا اخذ النصف لنفسه) یہ عبارت سرسری نظر میں مغالطہ آمیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس کی وجہ اس کا اجمال ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے معاملہ کو تفصیلی شکل میں پیش کیا ہے ۔ ان کا بیان اس کو واضح کر دیتا ہے کہ یہاں اپنی ذات سے مراد حکومتی خزانہ ہے ۔ بیہقی نے اپنی سنن میں امام زہری کا مقولہ ابن جریح کی سند سے تفصیل کے ساتھ درج کیا ہے ۔ وہاں الفاظ یہ ہیں:
فلما كان معاوية اعطى اهل المقتول النصف والقى النصف في بيت المال جب معاویہ خلیفہ ہوئے تو انھوں نے آدھی دیت مقتول کے رشتہ داروں کو دی اور آدھی بیت المال میں داخل کر دی ۔
آج لوگوں کے لئے سب سے آسان کام بولنا ہے اور سب سے مشکل کام چپ رہنا۔
مگر بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ بولنا اتنا سنگین کام معلوم ہو گا کہ لوگ سوچیں گے کاش وہ ساری عمر چپ رہتے، کاش انھوں نے اپنے ہونٹوں کو سی لیا ہوتا ۔
یہ ہے کہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں امام زہری
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues