Al-Risala · May 1978 · page 6

اداریہ

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۶

کا تقاضا، دوسرے امتحان کا۔ انسان کے حالت امتحان میں ہونے کا پہلو تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے سارے اختیار اور اپنی تمام امکانات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرے۔ دوسری طرف عبدیت کا پہلو زور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر حال میں آدمی اللہ پر بھروسہ رکھے، اپنے کو یا اپنی تدبیروں کو کچھ نہ سمجھے۔ اسباب کا اہتمام ہمارے حالت امتحان میں ہونے کا اظہار ہے اور اللہ پر اعتماد ہماری عبدیت کار۔

یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب مکہ کے حالات اس حد تک سخت ہوگئے کہ لوگوں نے آپ کے قتل کا ارادہ کر لیا تو آپ اپنے وطن کو چھوڑ کر یثرب (مدینہ) چلے گئے۔ سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سفر کے لئے آپ نے ہر قسم کا ممکن اہتمام فرمایا۔ سفر کے ہر جزو کو مکمل طور پر راز میں رکھا۔ عام شاہراہ کے بجائے غیر معروف راستہ سے سفر فرمایا۔ مکہ سے رات کے وقت پیدل نکلے اور سواری کا انتظام آگے ایک صحرائی مقام سے کیا۔ آپ کو مدینہ جانا تھا جو مکہ سے شمال کی جانب واقع مگر آپ نے اس کے الٹی طرف جنوبی سمت میں سفر فرمایا۔ مکہ کے باہر چند میل جاکر ایک سنسان پہاڑی غار (ثور) میں تین دن ٹھہرے رہے جو اتنا تنگ تھا کہ آدمی صرف لیٹ کر اس کے اندر داخل ہو سکتا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔

آپ جب ابو بکر صدیق کے ساتھ غار ثور میں مقیم تھے، قریش کے کچھ لوگ آپ کو ڈھونڈتے ہوئے غار کے کنارے تک پہنچ گئے۔ آہٹ پا کر ابو بکر صدیق نے کہا، دشمن اتنے قریب آچکا ہے کہ اگر انھوں نے جھک کر اپنے قدموں کے نیچے کی طرف دیکھا تو وہ ہم کو پا لیں گے۔ آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا : ماظنك باثنين يا ابا بکر اللہ ثالثھما ابو بکر! ان دو کی نسبت تمھارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو اس واقعہ میں نبوت کا مقام نظر آرہا ہے۔ ایک طرف تدبیر کمال درجہ پر ہے۔ دوسری طرف اللہ پر اعتماد کمال درجہ پر۔ یہی نبوت کی شان ہے۔ پیغمبر اس شان عبدیت میں کمال درجہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر کے ساتھیوں اور فیض پانے والوں میں بھی یہ اوصاف درجہ بدرجہ پیدا ہوتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page