Al-Risala · May 1978 · page 5

اداریہ

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۵

"میرے لئے ایک سائیکل خرید دیجئے " بیٹے نے باپ سے کہا۔ باپ کی آمدنی کم تھی ۔ وہ سائیکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتارہا اور باپ بار بارمنع کرتا رہا ۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا " میں نے کہہ دیا کہ میں سائیکل نہیں خریدوں گا ۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا ۔ "

یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا : " آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔ پھر آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں ؟ " اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا۔ ۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا ۔ اس نے کہا : اچھا بیٹے اطمینان رکھو میں تمھارے لئے سائیکل خریدوں گا ۔ اور کل ہی خریدوں گا " یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے ۔ اگلے دن اس نے پیسہ کا انتظام کر کے بیٹے کے لئے نئی سائیکل خرید دی ۔

لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا ۔ مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی ، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے ۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لئے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا خود اس کے لئے ۔

اس واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ذکرِ الہیٰ کی وہ کون سی قسم ہے جو میزان کو بھر دیتی ہے اور جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امڈ آتی ہیں۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے ، نہ اس کا کوئی " نصاب " ہے ۔ یہ ذکر کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے ۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمّل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں ۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ " بیٹا " اور " باپ " دونوں ایک ترازو پر آ جاتے ہیں ۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ ذکر محض لغت کا لفظ نہیں ہوتا بلکہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتا ہے ۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں ۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں ۔ قادرِ مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page