یہ احترام نہیں، ناقدری ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۸
کبھی سیاست کو ترک کرنے ہی کا نام سیاست ہوتا ہے اکتوبر1944 میں دوسری عالمی جنگ اپنے شباب پر تھی۔ امریکہ، بحرالکاہل کے جزائر کو فتح کرتے ہوئے، جاپان کے دروازہ تک پہنچ چکا تھا۔ اس وقت جاپان کےوائس ایڈمرل اونسٹی (TAKJIJORO ONISHI) نے اپنی فوج کے اعلیٰ افسروں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا : " میرے خیال سے اب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے جس میں ہم یقین کر سکیں کہ ہماری معمولی طاقت زیادہ سے زیادہ موثر بن سکتی ہے۔ وہ یہ کہ ہم " زیرو فائٹرس " کا ایک دستہ بنائیں جو ۲۵۰ کلوگرام کا بم لے کر دشمن کے سمندری جنگی جہازوں پر اپنے آپ کو گرادیں "
اونسٹی کی یہ تجویز ہوا بازوں تک پہنچائی گئی۔ فی الفور منظوری کا فیصلہ ہو گیا۔ ہوا بازوں کا ایک دستہ بنایا گیا جس کا نام تھا کامیکیر (KAMIKAZE) یہ ایک جاپانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں " خدائی آندھی "۔ یہ نام اس لئے اختیار کیا گیا کیونکہ تیرہویں صدی میں قبلائی خاں کے حملے سے " ایک خدائی آندھی نے جاپان کو بچایا تھا " جس میں اس کی جنگی کشتیاں ایک سمندری طوفان نے تباہ کر ڈالی تھیں۔
ساتھ یہ قربانیاں دی تھیں، اس کا اندازہ ایک خط سے ہوگا، سسومو (SUSUMO KIJITSU) اسی قسم کا ایک ۲۲ سالہ جاپانی ہواباز تھا جس نے ایک بم لے کر اپنے ہوائی جہاز کو دشمن کے ایک سمندری جنگی جہاز پر گرایا تھا، اس نے آخری دن اپنے دفتر سے اپنے خاندان کو حسب ذیل خط لکھا :
"میرے پیارے والدین، پیارے بھائیو اور میری پیاری بہن !
یقیناً آپ کو اس کا علم نہیں ہوگا، مگر چند دن پہلے میں نے آپ کو الوداع کہی ہے جب کہ میں اپنے گھر کے اوپر پرواز کر رہا تھا، میرے جہاز کے بازوؤں کے سائے نے ہمارے مکان کی چھت کو چھوا میرے خیالات ہمہ تن آپ کی طرف لگے ہوئے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ بہت جلد میرا وقت آجائے گا۔ مگر مجھے موت کا ڈر نہیں۔ مجھے صرف یہ فکر ہے کہ میرا عمل کیا جاپان کو بچانے کے لئے مفید اور فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ میں اور میرے ساتھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہماری قربانیاں ہمارے بعد کی نسلوں کے لئے فتح لے آئیں گی۔ ہم نہایت پرسکون ہیں۔ ہم اکثر مذاق کرتے ہیں اور اپنا وقت پڑھنے اور تاش کھیلنے میں گزارتے ہیں۔ آپ ہمارے لئے غمگین نہ ہوں ۔ اس کے برعکس آپ کو فخر کرنا چاہئے کہ میرا جسم اگر چہ جلدی ختم ہو جائے گا مگر میری روح ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی۔ ۔ ۔ ۔ اب اگست ۱۹۴۵ میں جنگ ختم ہوئی تو پانچ ہزار کی | الوداع، کیونکہ آخری وقت کی گھنٹی بج چکی ہے۔ تعداد میں جاپانی ہوا باز اس طرح اپنی جانیں دے چکے تھے۔ | (آپ کا بیٹا اور بھائی سسومو) انہوں نے اکتوبر 1944 اور جون 1945 کے درمیان ۳۳ امریکی جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جاپان کے بہادر ہوابازوں نے کن جذبات کے تا ہم تاریخ کی یہ انوکھی قربانی جاپان کو بچانے والی ثابت نہ ہوسکی ، کیوں کہ دشمن کے پاس ایک اور بر تر طاقت تھی جس کے مقابلہ میں جاپانی ہوا بازوں کی یہ لامثال قربانی