Al-Risala · May 1978 · page 9

یہ احترام نہیں، ناقدری ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۹

بھی بے اثر تھی۔ یہ تھا ایٹم بم ۔ ۶ اگست ۱۹۴۵ کو امریکی ہوائیہ نے دو ایٹم بم جاپان کی زمین پر گرائے جس نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی جیسے عظیم صنعتی شہروں کو چند منٹ میں خاک کا ڈھیر بنا دیا ۔ اب جاپان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دے ۔ تاہم جاپان کے لیے اب بھی راستے بند نہیں ہوئے۔ اب اس نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے " جنگ کو جاری رکھنے کے لیے جنگ کے خاتمہ " کا اعلان کر دیا۔ جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے ریڈیو پر قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا :

" ہم ایک ناقابل برداشت صورت حال سے دوچار ہیں۔ مگر ہمیں اس ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں ۔ " جاپان نے امریکہ کے سیاسی اور فوجی اقتدار کو تسلیم کر لیا اور اس کے تحت غیر سیاسی میدانوں میں ترقی و استحکام کی تدبیریں شروع کر دیں ۔ اب ان کا خصوصی نشانہ تھا سائنسی تعلیم اور جدید صنعت ۔ " جنگ کو ختم کر کے جنگ جاری رکھنے " کی تدبیر کامیاب رہی۔ ۱۹۴۵ میں کئے گئے اس خاموش فیصلے کا نتیجہ ۱۹۴۰ میں بڑا مدعا ۔ ۲۵ سال تک " سیاست "

چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان ایک ناقابل تسخیر سیاسی طاقت بن گیا۔ سائنسی تعلیم ، ٹکنالوجی ، صنعت اور قومی کردار کی تعمیر میں جاپان نے جو غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی تھیں ، اس نے اپنے بالواسطہ اثرات پیدا کرنے شروع کئے ۔ یہاں تک کہ امریکہ کے لئے اس کو نظر انداز کرنا نا ممکن ہو گیا۔ امریکہ نے جزائر جاپان کا اقتدار جاپانی باشندوں کے حوالے کر دیا ۔ اس کی فوجیں اور کی فوجیں ان کی ناوا میں اپنے عظیم فوجی اڑہ کو خالی کرکے اپنے وطن واپس چلی گئیں ۔ وہ ہار کو ماننا جانتا تھا امریکہ کے ایک شخص نے ۱۸۳۱ میں تجارت کی ۔ اس میں وہ ناکام ہو گیا۔ ۱۸۳۲ میں اس نے الیکشن میں شکست کھائی ۔ ۱۸۳۴ میں اس نے دوبارہ تجارت کی مگر اس بار بھی ناکام رہا ۔ ۱۸۳۶ میں اس کو امید تھی کہ اس کی پارٹی اس کو کانگریس کی ممبری کے لئے نامزد کرے گی۔ مگر اس کی امید پوری نہ ہوسکی ۔ ہوسکی۔ 1855 میں وہ سینٹ کے لئے کھڑا ہوا مگر ہار گیا ۔ ۱۸۵۰ میں دوبارہ اس کو سینٹ کے الیکشن میں شکست ہوئی ۔ یہ بار بار ناکام ہونے والا شخص ابراہام لنکن ( ۱۸۶۵ - ) تھا جو بالآخر ۱۸۶۰ میں امریکہ کا صدر چناگیا اور آج وہ نئے امریکہ کا معمار سمجھا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل نے لنکن کی کامیابی کا راز یہ بتایا ہے: HE KNEW HOW TO ACCEPT DEFEAT وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page