آگ: درخت کا خوبصورت بچہ
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳
بہت سے چمک دار سکے آخرت کے بازار میں کھوٹے ثابت ہوں گے سعدی شیرازی کا ایک شعر ہے بزرگ زاده تا داں پہ پر و داماند کامیاب دکھائی دیتے ہوں کہ در دیار غریبش بہ بیج نستانند لاشہ پر واہ“ کے معنی ہیں رواج داد، حکومت اس سے مراد وہ نقود یا سکے ہیں جن کو کسی حکومت نے راستوں پر چلتے ہیں، ان کو یہاں بہت جلد عزت اور ترقی حاصل ہو جاتی ہے۔ مگر اس قسم کے لوگ جیسے ہی اگلی دنیا میں داخل ہوں گے وہ بالکل بے قیمت ہو جائیں نہیں ہوتی۔ سعدی شیرازی کہتے ہیں کہ بڑے آدمی گے کیونکہ اگلی دنیا وہ ہے جہاں شیطان کی عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ جو لوگ شیطان کی سرپرستی وطن میں اپنے باپ کی وجہ سے عزت دار بنے رہتے کی وجہ سے موجودہ دنیا میں عزت دار بنے ہوئے تھے وہ وہاں مکھی اور مچھر سے زیادہ بے قیمت ہوں گے کیوں کہ وہاں عزت صرف اس کے لئے ہے جس کو خدا اپنی قیمت کھو دیتا ہے۔
اپنی سرپرستی میں لے لے۔
علی بن ابی طالب ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔ ان کے یہاں پہلا لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حرب (جنگ) تجویز کیا۔ آپؐ نے اس کو پسند نہیں کیا اور اس کے بجائے لڑکے کا نام ”حسن“ رکھا۔ علی بن ابی طالب کے یہاں دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو انھوں نے دوبارہ چاہا کہ اس کا نام حرب رکھیں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں، اس کا نام حسین رکھو۔ (منہاج السنة النبویة لابن تیمیہ)
جنگ اور تصادم اسلام میں اتنا زیادہ ناپسندیدہ ہے کہ ہر قیمت پر اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، قرآن میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمہارا حریف اگر صلح کے لئے آگے بڑھے تو تم بھی آگے بڑھ کر اس سے صلح کرلو۔ حتیٰ حتیٰ کہ اگر یہ اندیشہ ہو کہ حریف صلح کے پردہ میں تم کو دھوکا دینا چاہتا ہے تب بھی اس کی پروا مت کرو اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سے صلح کرلو (انفال (۹)