آگ: درخت کا خوبصورت بچہ
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲
وسلم يقول الدنيا ملعونۃ وملعون ما فيها دنیا میں ہے وہ بھی۔ مگر اللہ کی یاد اور وہ چیز جس کے إلا ذكر الله وما دالا ہ دعالما ومتعلما قریب ہو اور عالم (اور طالب علم۔
امام غزالی نے لکھا ہے کہ غور و فکر کو افضل عبادت اس لئے کہا گیا کہ اس میں ذکر (یا دالہٰی) تو موجود ہوتا ہی ہے، اسی کے ساتھ اس میں دو چیزوں کا اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک اللہ کی معرفت ، کیونکہ غور و فکر معرفت کی کنجی ہے ، دوسرے، اللہ کی محبت کہ وہ فکر سے پیدا ہوتی ہے۔
عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں، اگر علم چاہتے ہو تو قرآن کے معانی پر غور کرو کہ اس میں اولین و آخرین کا علم ہے۔ یوں آتی ہے آفت ، اور آخرت کی آفت سب سے بڑی ہے جب کسی کو مال و اولاد کی نعمت ملتی ہے تو وہ وہ صبح کو اٹھے اور ایک دوسرے کو پکارا، اگر تم کو دراصل خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس کا شکرانہ یہ ہے پھل توڑنا ہے تو سویرے اپنے کھیت پر چلو۔ پھر وہ لوگ کہ آدمی ان کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ دوسروں کو بھی چل پڑے ۔ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے کہ آج تمھارے اس میں حق دار سمجھے اور کمزور طبقات کے لئے بھی اس باغ میں کوئی محتاج نہ آنے پائے۔ وہ یہ سمجھ کر جا رہے تھے میں حصہ لگائے۔ خدا کی نعمت پانے کے بعد منافع للغیر" کہ وہ اس پر قادر ہیں۔ مگر جب وہاں پہنچے اور باغ کی بن جانا خدا کو سخت ناپسند ہے۔ اس قسم کا فعل نہ صرف حالت دیکھی تو کہنے لگے "یقیناً ہم راستہ بھول گئے ہیں۔ " آخرت میں آدمی کے لئے بوجھ بنے گا۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ پھر جب حقیقت معلوم ہوئی تو بولے "ہماری قسمت دنیا میں بھی ملی ہوئی نعمت اس سے چھین نہ لی جائے۔ پھوٹ گئی "
قرآن میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے جس کا ترجمہ ان میں جو بہتر آدمی تھا، وہ بولا۔ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم خدا کی پاکی کیوں نہیں بولتے۔ انھوں نے " ہم نے اسی طرح ان کو آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح جواب دیا۔ واقعی پاک ہے ہمارا رب! بے شک ہم ہی ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ جب انھوں نے قصور وار ہیں۔ پھر ایک دوسرے پر ملامت کرنے لگا، نے قسم کھائی کہا اپنے باغ کا پھل صبح سویرے ضرور انھوں نے کہا، افسوس ہمارے حال پر، بلاشبہ ہم سرکش توڑیں گے۔ ان کو ایسا وثوق تھا کہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہو گئے تھے، بعید نہیں کہ ہمارا رب اس کے بدلے ہمیں " اگر خدا چاہے۔ "۔ پھر رات کو جب کہ وہ ابھی سورہے اس سے بہتر باغ عطا کرے۔ ہم اس کی طرف رجوع کرتے تھے، تمھارے رب کی طرف سے ایک آفت اس باغ پر ہیں ۔ یوں آتی ہے آفت اور آخرت کی آفت تو سب پھر گئی اور اس کا حال ایسا ہوگیا جیسے روندی ہوئی فصل۔ سے بڑی ہے۔ القلم ۳۳ - ۱۷