Al-Risala · May 1978 · page 17

جولائی ۱۹۴۴ء

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷

کوئی تحریک کیسی ہے، اس کو جاننے کا سب سے زیادہ یقینی ذریعہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس سے جو لوگ متاثر ہوتے ہیں ان میں کیسا مزاج بنتا ہے۔ دورِ اول میں قرآن نے صحابہ کے اندر جو مزاج پیدا کیا، وہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کا مزاج تھا۔ ان میں کے چند آدمی جب ایک جگہ بیٹھتے تو وہ خدا اور آخرت کے چرچے کرتے ، ان کے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جاتا تو ان کو خدا یاد آتا۔ ہوا اگر تیز ہو جاتی ، تب بھی وہ کانپ جاتے کہ کہیں قیامت نہ آگئی ہو۔

موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر جو تحریکیں اٹھیں اور ان سے جو لوگ متاثر ہوئے ، ان کو دیکھئے تو کسی میں یہ مزاج دکھائی نہ دے گا ۔ کسی تحریک نے یہ مزاج پیدا کیا ہے کہ اس کے چند وابستگان جب کہیں اکٹھا ہوتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے بزرگوں کی فضیلتیں اور کرامتیں بیان کریں ۔ کسی تحریک نے اپنے لوگوں کو ایک قسم کا عملیاتی اسلام تقسیم کر رکھا ہے اور اس کا ہر فرد اس کے طلسماتی فوائد کا ٹیپ ریکارڈ بنا ہوا ہے۔ کسی تحریک نے اسلام کے نام پر ایک عجیب و غریب قسم کا سیاسی مزاج بنایا ہے۔ اس کے متاثر افراد کا لذیذ ترین موضوعِ گفتگو صرف وہ چیزیں ہوتی ہیں جن میں سیاست کی چاشنی ہو۔ وہ وہیں متحرک ہوتے ہیں جہاں کوئی سیاسی اقدام کا موقع ہو۔ خواہ یہ سیاسی اقدام عملاً سیاسی خندق میں چھلانگ لگانے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔

آج کل جس اسلامی گروہ کو دیکھئے سب کا یہی حال نظر آئے گا۔ ان کی مجلسوں میں اپنے "حضرت" کے چرچے ہیں۔ مگر خدا کے چرچے نہیں۔ ان کی زبانوں پر محض اسلام کی داستانیں ہیں۔ مگر اس اسلام کی گونج نہیں، جو خدا کا خوف اور بندوں کی خیر خواہی پیدا کرتا ہے۔ ان کے یہاں سیاسی مسائل پر بحثیں ہیں۔ مگر قیامت میں قائم ہونے والی عظیم عدالت کے ذکر سے ان کی صحبتیں خالی ہیں۔ ان حالات میں بڑی بڑی اسلامی تحریکوں کے وجود میں آنے کے باوجود اگر اسلام سر بلند نہ ہو رہا ہو تو تعجب کی کوئی بات نہیں، کیونکہ خدا کی نصرت خدا والے دین پر نازل ہوگی نہ کہ ہمارے اپنے بنائے ہوئے دین پر۔ اعلان دفتر کو الرسالہ کے حسب ذیل شمارے درکار ہیں :

جولائی ۱۹۴۴ء

جو لوگ فراہم کر سکتے ہوں براہ کرم مطلع فرمائیں منیجر الرسالہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page