جولائی ۱۹۴۴ء
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
اس کا حسد اس کے لئے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گیا قرآن میں ایک کردار کو ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے :
" ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں۔ مگر وہ اس سے نکل بھاگا۔ پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ یہاں تک کہ وہ گمراہ ہو کر رہ گیا۔ اگر ہم چاہتے تو اس کو ان نشانیوں کے ذریعہ بلند مرتبہ کر دیتے ۔ مگر وہ تو بالکل دنیا کی طرف جھک پڑا اور اپنی خواہش کی پیروی کرنے لگا۔ سو اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ اگر تم اس پر بوجھ لادو تب بھی ہانپے اور چھوڑ دو تب بھی ہانپے ۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ قصہ ان کو سناؤ ، شاید کہ وہ سوچیں ۔ (اعراف ۔ ۱۷۶ یہاں ایک شخص کی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ آدمی جب حق سے انکار کرتا ہے تو اس کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر فطری طور پر حق کی معرفت رکھ دی ہے۔ اس کے بعد مزید اہتمام یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے ایسے واقعات لائے جاتے ہیں اور ان پر ایسی حقیقتیں روشن کی جاتی ہیں کہ سچائی ان کے لئے ایک جانی پہچانی چیز بن جائے۔ مگر اس کے باوجود اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی محض مفادات اور مصالح کی بنا پر حق کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے، وہ حق کی پرستش کو صرف اس لئے چھوڑ دیتا ہے کہ اسے اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد وہ خود اپنی پرستش کرنے یا کرانے کے مواقع سے محروم ہو جائے گا۔
مفسرین کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ اس آیت میں جس شخص کی مثال دی گئی ہے، وہ عرب کا رئیس اور شاعر امیہ ابن ابی الصلت ثقفی ہے۔ اس نے اپنی تمام زندگی کاروبار میں گزاری۔ تجارتی سفروں کے سلسلے میں شام اور یمن وغیرہ کا سفر کرتا رہتا تھا۔ ان سفروں میں اس کی ملاقات عیسائی راہبوں اور پادریوں سے ہوئی۔ قدیم آسمانی کتابوں کے کچھ حصے سنے۔ چونکہ اس کی طبیعت میں دینداری تھی، بہت جلد متاثر ہو گیا۔ شراب چھوڑ دی۔ ٹاٹ پہننے لگا۔ بتوں پر اعتقاد نہ رہا۔ دین ابراہیمی کی بابت اس کا ایک شعر ہے :
کل دین یوم القیامۃ عند اللہ الا دین الحنیفۃ زور قیامت کے دن اللہ کے یہاں دین حنیفی کے سوا ہر دین باطل ہوگا ایک نظم کے چند اشعار یہ ہیں :
الحمد لله أمسانا ومصبحنا بالحمد صبحنا ربی د مسانا رب الحنيفۃ لم تنقد خزائنه مملوءة طبق الآفاق سلطان الأنبى لنا منا نخبرنا ما بعد غايتنا من رأس محيانا تعریف خدا کی ہے صبح و شام جو ہماری صبح و شام بنجیر کر رہا ہے۔ دین ابراہیمی کا رب ہے، اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں کبھی ختم نہیں ہوتے۔ سارے جہان پر اس کی فرماں روائی ہے۔ کیا ہمارا کوئی پیغمبر نہیں جو ہمیں بتائے